اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے گزشتہ روز یمن کی صورت حال پر ایک اجلاس منعقد کیا جس میں چینی نمائندے نے تمام فریقوں سے بحیرہ احمر میں تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کو بڑھانے والے اقدامات کو روکنے کے مطالبے کا اعادہ کیا۔مزید یہ کہ چین یمن میں سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تمام فریقوں کی حمایت کرتا ہے۔
اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل نمائندے گنگ شوانگ نے متعلقہ فریقوں سے تحمل سے کام لینے اور تناؤ کو بڑھانے والے اقدامات کرنے سے باز رہنے کا مطالبہ کیا ۔ چین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سلامتی کونسل نے کبھی کسی ملک کو یمن کے خلاف طاقت کے استعمال کا اختیار نہیں دیا اور کوئی بھی ملک بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی غلط وضاحت نہیں کر سکتا۔
گنگ شوانگ نے کہا کہ یمن میں انسانی بحران کو کم کرنا عالمی برادری کا مشترکہ کام ہے۔ چین نے بین الاقوامی برادری سے یمن میں انسانی اور ترقیاتی سرمایہ کاری بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے اور شمالی یمن میں عالمی خوراک پروگرام کے امدادی کام کے جلد از جلد دوبارہ شروع ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
گنگ شوانگ نے ایک بار پھر کہا کہ بحیرہ احمر میں کشیدگی غزہ تنازعہ کے پھیلنے والے اثرات کا ایک اہم مظہر ہے۔ اسرائیل کو چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ کے رکن ریاست کے طور پر اپنی ذمہ داریاں پوری سنجیدگی سے ادا کرے، سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تقاضوں پر مکمل عمل درآمد کرے اور غزہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائی فوری طور پر بند کرے۔
Trending
- کاروبار کا ملا جلا دن، 100 انڈیکس میں 47 پوائنٹس کی کمی
- جہاز کے ذریعے مچھر جرمنی پہنچ گیا، کاٹنے سے ایک ایئرپورٹ ملازم ہلاک
- نیپال میں ہلاکت خیز سیلاب کی وجہ زلزلہ نہیں بلکہ کچھ اور تھا: امریکی ادارے نے بتادیا
- جیسوال اور ویبھاؤ کو معمولی سزا دیے جانے پر سنجے منجریکر برہم
- ملک میں سونے کی قیمتیں گراوٹ کا شکار
- نیپال میں بپھرا ہوا سیلاب سیکڑوں سیاحوں کو بہا لے گیا، 300 سے زائد ہلاکتیں، سیکڑوں لاپتا
- شمالی آئرلینڈ فٹبال ایسوسی ایشن کا انفینٹینو کی مخالفت کا اعلان
- کتاب شی جن پھنگ کی ثقافت کے بارے میں منتخب تحریریں کی جلد اول اور دوم شائع
- چینی وزیراعظم ہنگامی امدادی کارروائیوں کی رہنمائی کے لیے شی زانگ پہنچ گئے
- چین، 13ویں بیجنگ شیانگ شان فورم کی میزبانی کے لیے تیار