بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی سالانہ “ورلڈ اکنامک آؤٹ لک” رپورٹ جاری کی۔ رپورٹ میں آئی ایم ایف نے امریکی پالیسی سازوں پر براہ راست تنقید کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ موجودہ امریکی مالیاتی پالیسی غیر مستحکم ہے اور امریکی حکومت کے حد سے زیادہ اخراجات کی وجہ سے ایک بڑا بجٹ خسارہ پیدا ہوا ہے، جو مختصر مدت میں افراط زر کو کم کرنے کے لئے سازگار نہیں ہے، اور اس سے عالمی مالیاتی اخراجات میں اضافہ ہوگا اور طویل مدت میں عالمی مالیاتی استحکام کو نقصان پہنچے گا۔ حالیہ برسوں میں امریکی مالیاتی خسارہ شرح سود میں جارحانہ اضافے جیسے عوامل کی وجہ سے بڑھ رہا ہے۔امریکی کانگریس کے بجٹ آفس کے مطابق، 2023 کے آخر میں، امریکی عوامی قرض امریکی جی ڈی پی کا 97فیصد تھا۔ امریکی جریدے “دی نیشنل انٹرسٹ” کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک حالیہ مضمون میں نشاندہی کی گئی ہے کہ امریکہ کا سب سے بڑا دشمن اس کا قومی قرضہ ہے جو 35 ٹریلن ڈالر کے قریب پہنچ رہا ہے۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کا ماننا ہے کہ جب تک وہ عالمی معاشی نظام میں غالب قوت رہے گا، مالیاتی خسارہ غیر متعلق ہے ۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ، امریکی معیشت کو افراتفری کا سامنا کرنا پڑے گا ، اور جب امریکی ڈالر دنیا کی اہم ریزرو کرنسی نہیں رہے گا، تو پورا امریکی مالیاتی نظام تباہ ہو جائے گا ۔
Trending
- دریائے سندھ پاکستان کی شہ رگ، سندھ کی روح، اس پر جارحیت ملک پر جارحیت ہوگی، مراد علی شاہ
- کینیا کے ایتھلیٹ ایمانوئل وانیونی نے 26 سال پرانا عالمی ریکارڈ توڑ دیا
- نائب وزیراعظم کا سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ، امریکا-ایران کشیدگی میں اضافے پر اظہارتشویش
- پاکستان کرکٹ ٹیم کو بڑا دھچکا، فیلڈنگ کوچ شین میک ڈرموٹ مستعفی
- گلگت بلتستان میں توانائی کا مسئلہ بڑا المیہ ہے، نومنتخب وزیراعلیٰ امجد حسین
- شان مسعود کو ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سے ہٹانے پر رمیز راجہ کا بڑا بیان سامنے آ گیا
- بلوچستان میں تاریخی انتظامی اصلاحات، 4 نئے ڈویژن اور 5 نئے اضلاع قائم
- کرسٹیانو رونالڈو کے مستقبل سے متعلق پرتگال کے نئے کوچ کا اہم بیان
- لاہور میں کالی گھٹاؤں کا راج، مختلف علاقوں میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش سے موسم خوشگوار
- پاکستان اور جنوبی افریقا ویمن انڈر19 کرکٹ ٹیموں کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز کی تیاریوں کا آغاز ہوگیا