جاپان میں آئینی ترمیم اور فوجی توسیع کے خلاف احتجاج، عوام نے فلاحی اخراجات پر دباؤ کا خدشہ ظاہر کر دیا
ٹوکیو : جاپانی شہری ٹوکیو کے شنجوکو اسٹیشن کے قریب جمع ہوئے اور حکومت کی جانب سے آئین میں ترمیم اور ملک کی “دوبارہ عسکریت پسندی” کے منصوبوں کے خلاف احتجاج کیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت کو فوجی سرگرمیوں کے بجائے امن کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہییں، تاہم موجودہ حکومت کی پالیسیوں کا رخ اس کے برعکس دکھائی دیتا ہے۔شرکاء نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر جاپان دفاعی صنعت کو ایک بڑے شعبے کے طور پر فروغ دیتا ہے اور دفاعی بجٹ میں مسلسل اضافہ کرتا ہے تو اس کا بوجھ قومی خزانے اور ٹیکس دہندگان پر پڑے گا، جبکہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے مختص وسائل متاثر ہوں گے۔مظاہرین کے مطابق فوجی توسیع غیر ضروری ہے اور اس سے عوام کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ غیر ضروری عسکری اخراجات کے لیے عوام کے بنیادی حقوق اور معیارِ زندگی کو قربان کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔