بیجنگ(نیوزڈیسک)چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیئن نے یومیہ پریس کانفرنس میں امریکہ کی جانب سے چین کے خلاف دفعہ 301 کی تحقیقات کے آغاز کے حوالے سے کہا کہ امریکہ کے متعلقہ دعوے حقائق کے مکمل منافی ہیں اور دونوں سربراہان مملکت کے درمیان سان فرانسسکو اجلاس میں ہونے والے اتفاق رائے کے خلاف ہیں۔ چین اس کی شدید مذمت کرتا ہے اور اپنے حقوق اور مفادات کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ چین کی اسٹیل انڈسٹری کے پاس برآمدات کو فروغ دینے کے لیے کوئی سبسڈی نہیں ہے لیکن امریکہ اپنی ہی صنعت کو امتیازی سبسڈی کی مد میں سینکڑوں ارب ڈالر فراہم کرچکا ہے۔ امریکہ کا الزام "چورمچائے شور ” کی ایک مثال ہے۔
متعدد امریکی تحقیقی رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی جہاز سازی کی صنعت نے کئی سال پہلے تحفظ پسندی کی وجہ سے اپنی مسابقتی برتریوں کو کھو دیا ہے۔ امریکہ اپنے مسائل کے لیے چین کو مورد الزام ٹھہراتا ہے جو کہ معاشی فہم کے منافی ہے۔ سابق امریکی انتظامیہ نے "قومی سلامتی” کے بہانے ڈبلیو ٹی او کے کچھ ممبروں کی اسٹیل اور ایلومینیم مصنوعات پر امتیازی طور پر محصولات عائد کیے تھے ، جسے ڈبلیو ٹی او نے ڈبلیو ٹی او کے قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔اس بار امریکہ نے دفعہ 301 کی نئی تحقیقات شروع کرنے کا جو اعلان کیا ہے، وہ غلطیوں کی بنیاد پر ایک اور غلطی ہے ۔
Trending
- مؤثر عملدرآمد کے باعث ملکی معیشت میں استحکام آیا ہے، آئی ایم ایف
- لیاری ندی کو ٹی ایم سی کے دائرہ اختیار میں شامل کرنے کی منظوری
- فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاکستان کا ابھرتا سفارتی کردار
- فتح جنگ میں بڑا انتظامی ایکشن: بدعنوانی پر اہلکار فوری معطل
- فی یونٹ 27 پیسے اضافے کا امکان
- آزاد کشمیر؛ حساس تنصیبات کی تصاویر، ویڈیوز بنانے والا را کا مبینہ ایجنٹ گرفتار
- سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر پاکستان کو موصول، زرمبادلہ ذخائر مستحکم
- مسلم لیگ گلگت بلتستان کے انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی: چوہدری شجاعت حسین
- راولپنڈی؛ مدرسے کے معلم کی 13 سالہ طالبعلم سے مبینہ زیادتی ، مقدمہ درج
- وزیرِ خزانہ کی موڈیز کے نمائندگان سے ملاقات، رابطے و تعاون جاری رکھنے کا عزم