اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بنوں واقعات کی تحقیقات کیلئے خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے قائم کیے گئے کمیشن کو مسترد کردیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ انتشار میں ملوث لوگوں کو تحقیقات کا حق حاصل نہیں ہے، جس جماعت کی وہاں حکومت ہے اس کے لوگ دھرنے میں شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں کی حکومت کو حق نہیں ہونا چاہئے کہ خود اس کی انکوائری کریں۔
عطا تارڑ نے دعویٰ کیا کہ بنوں میں حالات معمول کے مطابق ہیں اور کسی قسم کی کوئی کشیدگی نہیں دیکھی گئی، سیاسی قوتوں نے تاجروں کا امن مارچ خراب کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ کسی اور ملک اور بچوں کی تصویر لگا کر کہا جا رہا ہے کہ مظاہرین پر سیدھی فائرنگ کی گئی۔ فیک نیوز پھیلائی جا رہیں، اچھا ہوتا بانی پی ٹی آئی واقعے کی مذمت کرتے۔
قبل ازیں خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر گوہر نے اعلان کیا تھا کہ وزیر اعلیٰ نے واقعے کی تحقیقات اور ملوث افراد کی نشاندہی کے لیے کمیشن تشکیل دیا ہے۔
Trending
- بجٹ 2026-2027 پیٹرولیم لیوی پر بڑے اضافے کی تجویز
- سولر پینل پر کوئی ٹیکس نہیں بڑھے گا
- سولر کی وجہ سے بجلی مہنگی نہیں ہوئی، پینلز پر ٹیکس نہیں لگایا جارہا ہے، ایف بی آر حکام
- بجٹ مایوس کن ہوگا، فوٹوسیشن کیلیے وزیراعظم کے پاس نہیں جانا چاہتے، چیئرمین پی ٹی آئی
- پیٹرول پر لیوی میں کمی، ڈیزل پر بڑھا دی گئی
- shopkeepers fixed tax – ایکسپریس اردو
- درآمدی گاڑیاں مہنگی ہونے کا امکان، ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز
- بجٹ عوام دوست نہیں، حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کا تحفظات کا اظہار
- بجٹ میں شپنگ انڈسٹری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کا خاتمہ تاریخی ریلیف ہے: وفاقی وزیرِ بحری امور
- وفاقی بجٹ: ٹرانسپورٹ شعبے سے متعلق ٹیکس اور ڈیوٹی میں تبدیلیوں کی تجاویز پیش