اسلام آباد: فائر وال کی تنصیب اور ملک میں انٹرنیٹ بندش کے خلاف لاہور کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی درخواست دائر کردی گئی ہے۔
درخواست گزار نے ایمان مزاری کے توسط سے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر کرنے والی فائر وال کی تنصیب کو روکا جائے۔
درخواست میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ فائر وال کی تنصیب تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور بنیادی حقوق کے تحفظ سے مشروط قرار دی جائے۔ ذریعہ معاش کے لیے انٹرنیٹ تک رسائی کو آئین کے تحت انسانی بنیادی حقوق قرار دیا جائے۔
عدالت میں دائر درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ فریقین سے فائر وال سے متعلق تمام تفصیلات پر مبنی رپورٹ طلب کی جائے اور درخواست پر فیصلہ ہونے تک فائر وال کی تنصیب کا عمل معطل کردیا جائے۔ شہریوں کی بلا تعطل انٹرنیٹ تک رسائی کو یقینی بنانے کے احکامات دیے جائیں۔
درخواست میں سیکرٹری کابینہ، سیکرٹری آئی ٹی ٹی، سیکرٹری داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے جب کہ پی ٹی اے، وزارت انسانی حقوق بھی فریقین میں شامل ہیں۔
Trending
- ایشین گیمز 2026 کے لیے پاکستان کے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان، صاحبزادہ فرحان کپتان مقرر
- بھارتی فلم ساز امتیاز علی کے ساتھ اغوا کے بعد کیا ہوا؟ تفصیلات بتادیں
- وزیراعظم کی صدارت قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس جاری
- انسٹاگرام پوسٹ پر میٹا کا الرٹ، پولیس نے خودکشی کرنیوالے نوجوان کو بچالیا
- شہریوں کے لیے خوش خبری؛ حکومت کا بڑی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ
- نائٹ کلب تنازع میں الجھنے پر اسٹوکس کی کپتانی خطرے میں پڑگئی
- جھانوی کپور کے بولڈ کردار پر تنقید، جگاپتی بابو کی حمایت
- ملکی قرضوں کے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے، ایک سال میں 7 ہزار ارب کا اضافہ
- چائنا میکسنگ: مغربی تصورات کو چیلنج کرتی ایک نئی تہذیبی لہر
- چین کی غیر ملکی تجارت کا تازہ ترین ریکارڈ ‘توقعات سے بڑھ کرہے، چینی میڈیا