امریکی فیڈرل ریزرو نے اعلان کیا کہ وہ وفاقی فنڈز کی شرح کے لئے ہدف کی حد کو 25 بیسس پوائنٹس کم کرکے 4.5 فیصد اور 4.75فیصد کے درمیان کرے گا جو مارکیٹ کی توقعات کے عین مطابق ہے ۔ 18 ستمبر کو 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کے بعد فیڈ کی جانب سے شرح سود میں یہ مسلسل دوسری کٹوتی ہے۔
امریکہ نے بڑے پیمانے پر شرح سود میں کمی کی ، اس نے امریکی ڈالر میں ساز و سامان کی درآمدات اور دوسرے ممالک میں سرمایہ کاری جیسی سرمائے کی برآمد کے ذریعے دوسرے ممالک کو لوٹا۔ اور دوسری طرف جب شرح سود میں نمایاں اضافہ کیا جاتا ہے، تو اس کے نتیجے میں عالمی لیکویڈیٹی میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے،ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سی کرنسیوں کی قدر میں تیزی سے کمی آئی ہے اور امریکی ڈالر میں قرض لینے والے ممالک کے قرضوں کی ادائیگی کے دباؤ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اسکے نتیجے میں بہت سے ترقی پذیر ممالک ایکسچینج ریٹ کے اتار چڑہاو، سرمائے کے اخراج، بڑھتی ہوئی مالیاتی لاگت، اور قرضوں کی ادائیگی کی مشکلات” سے دوچار ہو گئے ہیں۔
Trending
- مؤثر عملدرآمد کے باعث ملکی معیشت میں استحکام آیا ہے، آئی ایم ایف
- لیاری ندی کو ٹی ایم سی کے دائرہ اختیار میں شامل کرنے کی منظوری
- فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاکستان کا ابھرتا سفارتی کردار
- فتح جنگ میں بڑا انتظامی ایکشن: بدعنوانی پر اہلکار فوری معطل
- فی یونٹ 27 پیسے اضافے کا امکان
- آزاد کشمیر؛ حساس تنصیبات کی تصاویر، ویڈیوز بنانے والا را کا مبینہ ایجنٹ گرفتار
- سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر پاکستان کو موصول، زرمبادلہ ذخائر مستحکم
- مسلم لیگ گلگت بلتستان کے انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی: چوہدری شجاعت حسین
- راولپنڈی؛ مدرسے کے معلم کی 13 سالہ طالبعلم سے مبینہ زیادتی ، مقدمہ درج
- وزیرِ خزانہ کی موڈیز کے نمائندگان سے ملاقات، رابطے و تعاون جاری رکھنے کا عزم