یورپی یونین کے رہنماؤں کا غیر رسمی اجلاس 7 سے 8 نومبر تک ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپیسٹ میں منعقد ہوا۔میٹنگ میں، یورپی یونین کے رہنماؤں نے یورپی مسابقت کو بڑھانے کے لیے "بوڈاپیسٹ ڈیکلریشن” پر ایک معاہدہ کیا۔لیکن یوکرین کی حمایت کے معاملے پر یورپی یونین میں ایک بار پھر شدید دراڑیں کھل کر سامنے آ گئی ہیں۔
یورپی کونسل کے صدر چارلس مشیل نے 8 نومبر کو کہا کہ یورپی یونین کو یوکرین کی حمایت کرنی چاہیے، ورنہ یہ غلط سیاسی سگنل ہوگا ۔ اجلاس کے میزبان ہنگری کے وزیر اعظم اوربان نے اسی دن کہا کہ انہوں نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ موجودہ پالیسیوں کو اصل صورتحال کی بنیاد پر ایڈجسٹ کرے۔ یورپی یونین طویل عرصے سے اس بات پر منقسم ہے کہ آیا یوکرین میں جاری تنازع کی حمایت کی جائے یا نہیں ۔ ہنگری کے وزیر اعظم اوربان اور دیگر رہنماؤں کا خیال ہے کہ روس کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کر کے تنازعہ کو ختم کیا جانا چاہیے، سلوواکیہ کے وزیر اعظم رابرٹ فیزو نے بھی یورپی کونسل کو ایک "فوجی کابینہ” بننے پر تنقید کا نشانہ بنایا ۔
Trending
- خطے کی بہتر ہوتی صورتحال نے اسٹاک مارکیٹ کا بلندی پر پہنچا دیا، سونا بھی سستا
- مئی میں دشمن پاکستان کی طاقت اور ہنر مندی دیکھ کر دنگ رہ گیا تھا، ایئر چیف مارشل
- پاکستان عالمی معاشی دباؤ کے باوجود مستحکم ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
- فیلڈ مارشل کا وفد کے ہمراہ ایران کا 3 روزہ سرکاری دورہ مکمل
- فتح جنگ میں رات 10 بجے کے بعد شادی ہال کی خلاف ورزی، 2 لاکھ جرمانہ، ہال سیل اور مقدمہ درج
- پاکستان میں موبائل فونز کی درآمدات میں بڑا اضافہ
- خطے میں کشیدگی کے باعث متاثر ہونے والا فضائی آپریشن بتدریج بحال ہونا شروع
- جاپانی حکومت کے خلاف ہزاروں جاپانی شہریوں کی جانب سے احتجاجی ریلی
- چینی صارفین کو جدید ترین اور بہترین مصنوعات کی فراہمی
- امریکہ نیٹو سے دستبردار نہیں ہو گا، نیٹو سیکرٹری جنرل