بیجنگ: اکتوبر میں چین میں قومی صارفی قیمتوں میں سال بہ سال 0.3 فیصد کا اضافہ ہوا اور ماہانہ بنیادوں پر 0.3 فیصد کمی واقع ہوئی۔ یہ اضافہ شہری علاقوں میں 0.2 فیصد اور دیہی علاقوں میں 0.3 فیصد رہا ۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں 2.9 فیصد کا اضافہ جبکہ غیر غذائی اشیاء کی قیمتوں میں 0.3 فیصد کمی واقع ہوئی۔ صارفی اشیاء کی قیمتوں میں 0.2 فیصد اور خدمات کی قیمتوں میں 0.4 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ۔ جنوری سے اکتوبر تک قومی سطح پر سی پی آئی انڈیکس میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 0.3 فیصدکا اضافہ ہوا۔
چین کے قومی ادارہ برائے شماریات کے شہری محکمہ کی چیف ماہر شماریات ڈونگ لی جیوان نے بتایا کہ اکتوبر میں اصراف کی مارکیٹ مجموعی طور پر مستحکم رہی، خوراک کی قیمتیں بلند سطح سے گر یں اور پٹرول کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی۔ مرکزی سی پی آئی میں ، جس میں خوراک اور توانائی کی قیمتوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے ، ہلکا اضافہ دیکھا گیا جو سال بہ سال 0.2 فیصد کا اضافہ اور ستمبر کے مقابلے میں 0.1 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہے۔ ماہانہ بنیادوں پر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ستمبر کے 0.8 فیصد اضافے سے 1.2 فیصد کمی واقع ہوئی اور یہ گزشتہ دہائی میں اسی عرصے کے اوسط معیار سےبھی کم ہے اور سی پی آئی میں ماہ بہ ماہ کمی کو متاثر کرنے والا اہم ترین عنصر ہے۔
Trending
- چین برکس تعاون کو مستحکم مستقبل کی جانب لے جائے گا، بین الاقوامی شخصیات
- ملک میں ایک تولہ سونے کی قیمت 400 روپے بڑھ گئی
- رضا اللہ کا تیز رفتاری سے بد ترین کارکردگی تک کا سفر
- ’تمہیں سمجھنا مشکل ہے‘، سیف علی خان نے اہلیہ کرینہ کپور کو ایسا کیوں کہا؟
- صائم ایوب کو سی پی ایل سے بلا کر کھلانا ٹیسٹ کرکٹ کی توہین ہے، ناصر حسین
- برکس تعاون میکانزم کو مسلسل فروغ مل رہا ہے، چینی صدر
- ’وہ مجھے بیوی نہیں، کچھ اور سمجھتے تھے‘، ایلون مسک کی سابقہ اہلیہ کے چونکا دینے والے انکشافات
- مٹی کا تیل 17روپے 35 پیسے فی لیٹر مہنگا
- چین کی بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی تعاون مضبوط بنانے کی اپیل
- مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے حوالے سے چین کا کردار قابل تحسین ہے ، سابق وزیر اعظم اردن