اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اگرچہ سکیورٹی اداروں کے اعلیٰ حکام اور متعلقہ سیاسی طبقے نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف پیجر دھماکوں کے آپریشن اور حزب اللہ کے اس وقت کے رہنما حسن نصراللہ کے قتل کی مخالفت کی تھی لیکن انہوں نے کارروائی پر اصرار کیا۔نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ کابینہ میں مخالفت کی ایک وجہ امریکا کی جانب سے تعاون نہ کرنا تھا جسے انہوں نے نظر انداز کیا ۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق مذکورہ بیان کو یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ پیجر دھماکوں کے ذمہ دار نیتن یاہو ہیں ۔ یاد رہے کہ ستمبر میں لبنان کے کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر مواصلاتی آلات کے دھماکوں میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ لبنان میں حزب اللہ نے کہا تھا کہ اسرائیل اس واقعے کا ذمہ دار ہے لیکن اسرائیل نے اس وقت اس پر کوئی عوامی تبصرہ نہیں کیا تھا۔
Trending
- گڈز ٹرانسپورٹرز نے 3 روز میں کرائے 40 فیصد بڑھا دیے
- چین برکس تعاون کو مستحکم مستقبل کی جانب لے جائے گا، بین الاقوامی شخصیات
- ملک میں ایک تولہ سونے کی قیمت 400 روپے بڑھ گئی
- رضا اللہ کا تیز رفتاری سے بد ترین کارکردگی تک کا سفر
- ’تمہیں سمجھنا مشکل ہے‘، سیف علی خان نے اہلیہ کرینہ کپور کو ایسا کیوں کہا؟
- صائم ایوب کو سی پی ایل سے بلا کر کھلانا ٹیسٹ کرکٹ کی توہین ہے، ناصر حسین
- برکس تعاون میکانزم کو مسلسل فروغ مل رہا ہے، چینی صدر
- ’وہ مجھے بیوی نہیں، کچھ اور سمجھتے تھے‘، ایلون مسک کی سابقہ اہلیہ کے چونکا دینے والے انکشافات
- مٹی کا تیل 17روپے 35 پیسے فی لیٹر مہنگا
- چین کی بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی تعاون مضبوط بنانے کی اپیل