اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اگرچہ سکیورٹی اداروں کے اعلیٰ حکام اور متعلقہ سیاسی طبقے نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف پیجر دھماکوں کے آپریشن اور حزب اللہ کے اس وقت کے رہنما حسن نصراللہ کے قتل کی مخالفت کی تھی لیکن انہوں نے کارروائی پر اصرار کیا۔نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ کابینہ میں مخالفت کی ایک وجہ امریکا کی جانب سے تعاون نہ کرنا تھا جسے انہوں نے نظر انداز کیا ۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق مذکورہ بیان کو یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ پیجر دھماکوں کے ذمہ دار نیتن یاہو ہیں ۔ یاد رہے کہ ستمبر میں لبنان کے کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر مواصلاتی آلات کے دھماکوں میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ لبنان میں حزب اللہ نے کہا تھا کہ اسرائیل اس واقعے کا ذمہ دار ہے لیکن اسرائیل نے اس وقت اس پر کوئی عوامی تبصرہ نہیں کیا تھا۔
Trending
- فیفا ورلڈکپ: امریکا پہنچنے پر سینیگال فٹبال ٹیم کی سخت چیکنگ کی ویڈیو وائرل
- سونا مہنگا ہوگیا؛ 3 دن وقفے کے بعد قیمتیں آج بڑھ گئیں
- ورلڈکپ کے آغاز سے قبل فیفا اور انفینٹینو کیخلاف قانونی کارروائی کا آغاز
- وفاقی بجٹ میں تاخیر وفاق و صوبوں میں ٹیکس آمدنی کی تقسیم پر تنازع کی وجہ سے ہے، انکشاف
- پاک ایران سرحدی تجارت بند ہونے اور ایل پی جی بحران کی تردید
- فیفا ورلڈکپ بھی سیاست سے داغدار، ایران کیلیے مختص ٹکٹ واپس لے لیے گئے
- وفاقی بجٹ: پی او ایس سسٹم نہ لگانے والے ٹیکس دہندگان کے لیے سخت سزائیں متعارف کروانے کا فیصلہ
- بجٹ منظوری کی راہ ہموار، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی پر وفاق اور صوبے رضامند ہو گئے
- شان مسعود کی جگہ نیا ٹیسٹ کپتان کون ہوگا؟
- قومی بچت اسکیموں اور سروا اسلامک اسکیموں کے لیے شرح منافع میں اضافہ