بیجنگ:چین کے اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن فار مارکیٹ ریگولیشن نے بارہ نومبر کو بتایا کہ اس سال 31 اکتوبر تک ، ملک بھر میں تقریبا 1.9 ملین “مصنوعی ذہانت” سے متعلق تنظیمیں اور ادارے موجود تھے ۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مصنوعی ذہانت سے متعلق تنظیمیں خاص طور پر جنوب مشرقی ساحلی علاقوں میں زیادہ ہیں جن کا تناسب 57 فیصد بنتا ہے ۔صوبہ گوانگ ڈونگ میں تقریبا 2 لاکھ 80 ہزار متعلقہ تنظیمیں موجود ہیں جو ملک کا 14.7 فیصد بنتا ہے۔ حالیہ برسوں میں ،صوبہ ہائی نان نے اس حوالے سے حالیہ برسوں میں سالانہ اوسطاً 55 فیصد کے اضافے سے ترقی کی ہے جہاں مجموعی طور پر 90 ہزار سے زیادہ تنظیمیں کام کر رہی ہیں ۔
سائنس و ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دو شعبوں میں تقریبا 5 لاکھ 50 ہزار مصنوعی ذہانت کی تنظیمیں ہیں ، جن میں سے ہر ایک مارکیٹ کا تقریبا 29 فیصد بنتاہے ، اور یہ مصنوعی ذہانت کی تنظیموں کی کل تعداد کا تقریبا 60 فیصد ہے۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں ملک بھر میں 60 ہزار سے زائد اداروں نے مصنوعی ذہانت کی تبدیلی حاصل کی ہے۔
Trending
- بھارتی روپے کی قدر میں تاریخی کمی کے سامنے مودی کا بیانیہ زمیں بوس
- پی ایس ایل 12 کے لیے دو ونڈوز سامنے آ گئیں، سپر سکسز کی تجویز
- نیشنل انٹیلی جنس بیورو کا قیام ، جاپان کا ارادہ منظر عام پر آ گیا
- فلپائن کی علاقائی حدود میں جزیرہ ہوانگ یئن کبھی ان میں شامل نہیں رہا , چینی وزارت خارجہ
- چین کے نئے تین نمایاں شعبے عالمی مینوفیکچرنگ کی جدت اور اپ گریڈ یشن کے لیے نئے مواقع فراہم کریں گے، چینی میڈیا
- چین کا امریکہ سے چینی کمپنیوں پر دباؤ بند کرنے کا مطالبہ
- چینی صدر کی قیادت میں چین نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، صدر سلوواکیہ
- فیفا کا نجی سرمایہ کاری منصوبے کی شدید مخالفت کے باوجود مشاورت جاری رکھنے کا اعلان
- فٹبال: امتیازی رویے پر کم از کم 10 میچز کی پابندی لازمی قرار
- ملک میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی