بیجنگ : انٹرنیشنل فیڈریشن آف روبوٹکس کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق چین کی مینوفیکچرنگ انڈسٹری میں روبوٹس کی ایپلی کیشن کی رفتار میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ چین میں صنعتی روبوٹس کی کثافت گزشتہ چار سالوں میں دگنی ہو چکی ہے، اور 2023 میں دنیا میں تیسرے نمبر پر آ گئی ہے۔ روبوٹکس کثافت سے مراد صنعتی روبوٹس کی تعداد اور ملازمین کی تعداد کا تناسب ہے ، جو مختلف ممالک میں مینوفیکچرنگ انڈسٹری میں آٹومیشن کی سطح کی تصدیق کرنے کے لئے ایک مؤثر اشارہ ہے۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف روبوٹکس کی جانب سے جاری کردہ 2024 کی ورلڈ روبوٹکس رپورٹ کے مطابق، 2023 میں عالمی اوسط روبوٹ کثافت ایک نئی بلند سطح پر پہنچ گئی ، جو فی 10ہزار ملازمین پر 162 روبوٹس تک جا پہنچی ،جو سات سال پہلے کے مقابلے میں دگنی ہے۔ اس اعتبار سے چین جرمنی اور جاپان کو پیچھے چھوڑ تے ہوئے دنیا کا تیسرا بڑا ملک بن گیا ہے۔
Trending
- پاکستان آرمی نے 31 ویں نیشنل ٹیبل ٹینس چیمپین شپ جیت کر اپنے اعزاز کا کامیاب دفاع کیا
- بجٹ میں ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں کیلئے ٹیکس ریلیف دیے جانے کا امکان
- پنجاب سے ملحق چیک پوسٹوں سے پختونخوا کو گندم اور آٹا نہیں دیا جارہا، گورنر کے پی
- سابق ٹیسٹ کپتان یونس خان نے پی سی بی کیساتھ کام کرنے کیلیے رضامندی ظاہر کردی
- حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان رئیل اسٹیٹ سیکٹر کیلئے ریلیف پیکیج پر اتفاق رائے نہ ہوسکا
- سفارتی امور پر چینی صدر کے منتخب کلام” کی جلد اوّل اور جلد دوم کی اشاعت
- کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور بھارتی میڈیا کا مذموم عزائم کیلیے گٹھ جوڑ بے نقاب
- بنگلا دیشی کرکٹر ناہید رانا کو آسٹریلیا کیخلاف شاندار بولنگ مہنگی پڑگئی
- کرن تعبیر کی سرجری کامیاب، اسپتال سے صحتیابی سے متعلق آگاہ کردیا
- رواں مالی سال میں کئی شعبوں کے اہداف حاصل نہیں ہوئے،اقتصادی سروے آج جاری ہوگا