بیجنگ: 2026 کے عالمی انسانی حقوق گورننس کے اعلیٰ سطحی فورم کے انعقاد کے موقع پر، چائنا میڈیا گروپ کے سی جی ٹی این نے رینمن یونیورسٹی آف چائنا کے اشتراک سے دنیا بھر کے 43 ممالک میں 12 ہزار افراد پر مشتمل ایک سروے کیا۔سروے کے نتائج کے مطابق چین عوامی مرکزیت پر مبنی حکمرانی کے تصور پر کاربند ہے، اور حکومتی انتظامی کارکردگی کو چین میں انسانی حقوق کی ترقی کا ایک اہم اشاریہ سمجھا جاتا ہے۔عالمی سطح پر جواب دہندگان نے چین کی طرزِ حکمرانی کو بہت سراہا۔ بنیادی ڈھانچے، تعلیمی معیار، روزگار کی شرح، فی کس آمدنی، رہائشی ماحول، صحت و صفائی، سماجی تحفظ، اور ماحولیاتی نظم و نسق سمیت 8 انتظامی کارکردگی کے شعبوں میں اطمینان کی شرح60 فیصد سے زائد ریکارڈ کی گئی۔سروے کے مطابق چین کے انسانی حقوق سے متعلق عملی تجربات نہ صرف ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا بلکہ عالمی انسانی حقوق گورننس کے لیے بھی قابلِ عمل تجاویز فراہم کی ہیں۔ سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ عالمی حکمرانی میں چین کی شرکت کے بارے میں جواب دہندگان کے اطمینان اور توقعات کی شرغ 60 فیصد سے زیادہ رہی، جبکہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت مشترکہ تعمیر پر اطمینان کی شرح70 فیصد سے تجاوز کر گئی۔سروے کے نتائج کو "عالمی انسانی حقوق گورننس میں چین کا ذمہ دارانہ کردار: عالمی عوامی رائے کے سروے کی بلیو بک” کے عنوان سے شائع کیا گیا ہے۔
Trending
- پنجاب حکومت کا 500 ارب روپے ریونیو ہدف، 12 اداروں سے سرکاری پراپرٹیز کی تفصیلات طلب
- کراچی میں شدید گرم و مرطوب موسم برقرار، پارہ 41 ڈگری تک جانے کا امکان
- افریقی فٹبال ریفری کو امریکا نے ملک میں داخل ہونے سے روک دیا، وطن واپسی پر شاندار استقبال
- رومانوی اداکار سنتوش کمار کو مداحوں سے بچھڑے 44 برس گزر گئے
- بجٹ؛ درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد بڑھانے کا امکان
- عالمی انسانی حقوق گورننس میں چین کا ذمہ دارانہ کردار ہے، چینی میڈیا
- جاپان نے نام نہاد "امن پسند ملک”کا نقاب خود ہی اتار لیا ہے،چینی وزارت خارجہ
- چین، 2026 عالمی انسانی حقوق کی حکمرانی کے اعلی سطحی فورم کا انعقاد
- چین میں غربت کے خاتمے کے ثمرات کو مسلسل مستحکم کیا گیا ہے، رپورٹ
- چین۔شمالی کوریا تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے چینی صدر کی چار نکاتی تجویز