لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے بعد فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) نے 27 تاریخ کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ حماس غزہ کی پٹی میں جنگ بندی تک پہنچنے کی کسی بھی کوشش میں تعاون کرنے کو تیار ہے۔ اسی روز حماس نے یہ بھی کہا کہ اس وقت کسی معاہدے تک پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ اسرائیل کی جانب سے ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کو فروغ دینے کی کسی بھی کوشش میں تعاون کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ اسرائیل فلسطینی غزہ کی پٹی سے اپنی افواج کا انخلا کرے، بے گھر افراد اپنے گھروں کو واپس جا سکیں اور قیدیوں کے تبادلے پر ایک حقیقی اور مکمل معاہدہ طے پائے۔
اس کے علاوہ حماس کے عہدیدار سمیع ابو زہری نے 27 تاریخ کو میڈیا کو بتایا کہ حماس نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے مذاکرات میں “انتہائی لچک” کا مظاہرہ کیا ہے اور یہ موقف اب تک تبدیل نہیں ہوا، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ہمیشہ کسی معاہدے تک پہنچنے سے گریز کرتے ہیں۔
Trending
- ملکی ایئرپورٹس پر مسافروں کو ناقص سہولیات کی فراہمی پر ایئرلائنز کیخلاف ایکشن
- وسط مدتی انتخابات کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ ممکن ہے، امریکی صدر
- شنگھائی میں 48ویں ورلڈ سکلز مقابلے کا آغاز
- بیجنگ ثقافتی فورم 2026 کا افتتاح
- چین امریکہ تعلقات کو آگے بڑھانے کا عملی راستہ تعمیری تزویراتی استحکام ہے ، چینی میڈیا
- چین میں اعلیٰ تعلیم یافتہ آبادی 270 ملین تک پہنچ گئی، چینی وزارت تعلیم
- چین کی بیرونی براہِ راست سرمایہ کاری میں 11.1 فیصد کا اضافہ
- مارک ووڈ کا 36 سال کی عمر میں انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
- کترینہ کیف پر نامناسب تبصرہ؛ سلمان خان کے آڑے ہاتھوں لینے پر آر جے نے معافی مانگ لی
- پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اقتصادی جائزے سے متعلق مذاکرات رواں ہفتے شروع ہونے کا امکان