لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے بعد فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) نے 27 تاریخ کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ حماس غزہ کی پٹی میں جنگ بندی تک پہنچنے کی کسی بھی کوشش میں تعاون کرنے کو تیار ہے۔ اسی روز حماس نے یہ بھی کہا کہ اس وقت کسی معاہدے تک پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ اسرائیل کی جانب سے ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کو فروغ دینے کی کسی بھی کوشش میں تعاون کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ اسرائیل فلسطینی غزہ کی پٹی سے اپنی افواج کا انخلا کرے، بے گھر افراد اپنے گھروں کو واپس جا سکیں اور قیدیوں کے تبادلے پر ایک حقیقی اور مکمل معاہدہ طے پائے۔
اس کے علاوہ حماس کے عہدیدار سمیع ابو زہری نے 27 تاریخ کو میڈیا کو بتایا کہ حماس نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے مذاکرات میں "انتہائی لچک” کا مظاہرہ کیا ہے اور یہ موقف اب تک تبدیل نہیں ہوا، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ہمیشہ کسی معاہدے تک پہنچنے سے گریز کرتے ہیں۔
Trending
- مردان میں پاک فضائیہ کا تربیتی طیارہ گر کر تباہ، 2 پائلٹس شہید
- فیفا ورلڈ کپ 2026، جاپان اور نیدرلینڈ کا میچ 2-2 گول سے برابر
- ایف بی آر کی ٹیکس اپیلوں کیلئے آزاد جانچ کمیٹی قائم کرنے کی تجویز
- تنخواہ وقت پر نہ ملے تو ملازم کیا کرے؟ سعودی حکومت نے بتا دیا
- محرم الحرام کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا
- فیفا ورلڈ کپ 2026، آئیوری کوسٹ نے ایکواڈور کو 0-1 سے ہرا کر شاندار فتح اپنے نام کر لی
- خصوصی اقتصادی اور ٹیکنالوجی زونز کے فروغ میں ایس آئی ایف سی کا کلیدی کردار
- عمران خان کو اسپتال میں طبی معائنے کے بعد دوبارہ اڈیالہ منتقل کردیا گیا: چیئرمین پی ٹی آئی
- فیفا ورلڈکپ: سوئیڈن نے تیونس کو 1-5 سے شکست دے دی
- سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، فی تولہ کتنا مہنگا؟