لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے بعد فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) نے 27 تاریخ کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ حماس غزہ کی پٹی میں جنگ بندی تک پہنچنے کی کسی بھی کوشش میں تعاون کرنے کو تیار ہے۔ اسی روز حماس نے یہ بھی کہا کہ اس وقت کسی معاہدے تک پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ اسرائیل کی جانب سے ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کو فروغ دینے کی کسی بھی کوشش میں تعاون کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ اسرائیل فلسطینی غزہ کی پٹی سے اپنی افواج کا انخلا کرے، بے گھر افراد اپنے گھروں کو واپس جا سکیں اور قیدیوں کے تبادلے پر ایک حقیقی اور مکمل معاہدہ طے پائے۔
اس کے علاوہ حماس کے عہدیدار سمیع ابو زہری نے 27 تاریخ کو میڈیا کو بتایا کہ حماس نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے مذاکرات میں "انتہائی لچک” کا مظاہرہ کیا ہے اور یہ موقف اب تک تبدیل نہیں ہوا، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ہمیشہ کسی معاہدے تک پہنچنے سے گریز کرتے ہیں۔
Trending
- امریکی انٹیلی جنس کا دعویٰ
- وزیراعظم شہباز شریف جلد سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہوں گے
- پاکستانی صلاحیتوں سے متعلق پاکستان کنفرنس 2026 کا انعقاد
- چین نے نائب وزیر خارجہ کو اچانک عہدے سے برطرف کردیا
- ایران اور امریکا کے اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، وزیراعظم
- امریکہ اور ایران کے وفود کی اسلام آباد واپسی کا امکان، امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا عندیہ
- پیکا قانون کی کہانی؛ صحافیوں اور شہریوں کے لیے کتنا خطرناک بن چکا ہے؟
- آبنائے ہرمز کی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے، : چین
- چین اور اسپین کے تعلقات میں مسلسل اور مستحکم ترقی ہوئی ہے، چینی صدر
- متحدہ عرب امارات چین کا جامع اسٹریٹجک شراکت داری ہے، چینی صدر