لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے بعد فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) نے 27 تاریخ کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ حماس غزہ کی پٹی میں جنگ بندی تک پہنچنے کی کسی بھی کوشش میں تعاون کرنے کو تیار ہے۔ اسی روز حماس نے یہ بھی کہا کہ اس وقت کسی معاہدے تک پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ اسرائیل کی جانب سے ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کو فروغ دینے کی کسی بھی کوشش میں تعاون کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ اسرائیل فلسطینی غزہ کی پٹی سے اپنی افواج کا انخلا کرے، بے گھر افراد اپنے گھروں کو واپس جا سکیں اور قیدیوں کے تبادلے پر ایک حقیقی اور مکمل معاہدہ طے پائے۔
اس کے علاوہ حماس کے عہدیدار سمیع ابو زہری نے 27 تاریخ کو میڈیا کو بتایا کہ حماس نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے مذاکرات میں “انتہائی لچک” کا مظاہرہ کیا ہے اور یہ موقف اب تک تبدیل نہیں ہوا، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ہمیشہ کسی معاہدے تک پہنچنے سے گریز کرتے ہیں۔
Trending
- پی ایس ایل 12 کے لیے دو ونڈوز سامنے آ گئیں، سپر سکسز کی تجویز
- نیشنل انٹیلی جنس بیورو کا قیام ، جاپان کا ارادہ منظر عام پر آ گیا
- فلپائن کی علاقائی حدود میں جزیرہ ہوانگ یئن کبھی ان میں شامل نہیں رہا , چینی وزارت خارجہ
- چین کے نئے تین نمایاں شعبے عالمی مینوفیکچرنگ کی جدت اور اپ گریڈ یشن کے لیے نئے مواقع فراہم کریں گے، چینی میڈیا
- چین کا امریکہ سے چینی کمپنیوں پر دباؤ بند کرنے کا مطالبہ
- چینی صدر کی قیادت میں چین نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، صدر سلوواکیہ
- فیفا کا نجی سرمایہ کاری منصوبے کی شدید مخالفت کے باوجود مشاورت جاری رکھنے کا اعلان
- فٹبال: امتیازی رویے پر کم از کم 10 میچز کی پابندی لازمی قرار
- ملک میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی
- اگست میں ملازمین اور طلبہ کی موجیں؛ چھٹیاں ہی چھٹیاں