لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے بعد فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) نے 27 تاریخ کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ حماس غزہ کی پٹی میں جنگ بندی تک پہنچنے کی کسی بھی کوشش میں تعاون کرنے کو تیار ہے۔ اسی روز حماس نے یہ بھی کہا کہ اس وقت کسی معاہدے تک پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ اسرائیل کی جانب سے ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کو فروغ دینے کی کسی بھی کوشش میں تعاون کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ اسرائیل فلسطینی غزہ کی پٹی سے اپنی افواج کا انخلا کرے، بے گھر افراد اپنے گھروں کو واپس جا سکیں اور قیدیوں کے تبادلے پر ایک حقیقی اور مکمل معاہدہ طے پائے۔
اس کے علاوہ حماس کے عہدیدار سمیع ابو زہری نے 27 تاریخ کو میڈیا کو بتایا کہ حماس نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے مذاکرات میں "انتہائی لچک” کا مظاہرہ کیا ہے اور یہ موقف اب تک تبدیل نہیں ہوا، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ہمیشہ کسی معاہدے تک پہنچنے سے گریز کرتے ہیں۔
Trending
- فیفا ورلڈکپ: امریکا پہنچنے پر سینیگال فٹبال ٹیم کی سخت چیکنگ کی ویڈیو وائرل
- سونا مہنگا ہوگیا؛ 3 دن وقفے کے بعد قیمتیں آج بڑھ گئیں
- ورلڈکپ کے آغاز سے قبل فیفا اور انفینٹینو کیخلاف قانونی کارروائی کا آغاز
- وفاقی بجٹ میں تاخیر وفاق و صوبوں میں ٹیکس آمدنی کی تقسیم پر تنازع کی وجہ سے ہے، انکشاف
- پاک ایران سرحدی تجارت بند ہونے اور ایل پی جی بحران کی تردید
- فیفا ورلڈکپ بھی سیاست سے داغدار، ایران کیلیے مختص ٹکٹ واپس لے لیے گئے
- وفاقی بجٹ: پی او ایس سسٹم نہ لگانے والے ٹیکس دہندگان کے لیے سخت سزائیں متعارف کروانے کا فیصلہ
- بجٹ منظوری کی راہ ہموار، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی پر وفاق اور صوبے رضامند ہو گئے
- شان مسعود کی جگہ نیا ٹیسٹ کپتان کون ہوگا؟
- قومی بچت اسکیموں اور سروا اسلامک اسکیموں کے لیے شرح منافع میں اضافہ