حال ہی میں جاپانی برانڈ یونی کلو کے بانی ینائی ماسا نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ یونی کلو چین کے سنکیانگ کی کپاس استعمال نہیں کرتا۔ اس حوالے سے سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے کی کاٹن ایسوسی ایشن نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں اس اقدام کو ناقابل قبول قرار دیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سنکیانگ کپاس دنیا کی بہترین کپاس میں سے ایک ہے۔ سنکیانگ میں کپاس کی کاشت کی میکانائزیشن کی شرح 100 فیصد تک پہنچ چکی ہے ۔ کپاس کی مشینی کٹائی کی شرح تقریباً 90 فیصد تک پہنچ چکی ہے ۔ کپاس کی صنعت سنکیانگ میں تمام قومیتی لوگوں کو اپنی آمدنی بڑھانے اور خوشحال ہونےکے لئے ایک ستون کی صنعت بن چکی ہے جس نے سنکیانگ میں بہت سے خاندانوں کو غربت سے نجات دلاتے ہوئے امیر بنایا ہے۔امریکہ نے "انسانی حقوق” اور نام نہاد "جبری مشقت” کی آڑ میں سنکیانگ کی کپاس اور کپاس مصنوعات کو بدنام اور بائیکاٹ کیا ہے۔ ہم یونی کلو جیسے بین الاقوامی برانڈز سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سنکیانگ کپاس کو اُس کا جائز مقام اور اعتماد دیں، سنکیانگ کپاس کا استعمال دوبارہ شروع کریں، اور عالمی کاٹن ٹیکسٹائل انڈسٹری کی صحت مند اور مستحکم ترقی کو برقرار رکھیں۔
Trending
- ورلڈکپ کے آغاز سے قبل فیفا اور انفینٹینو کیخلاف قانونی کارروائی کا آغاز
- وفاقی بجٹ میں تاخیر وفاق و صوبوں میں ٹیکس آمدنی کی تقسیم پر تنازع کی وجہ سے ہے، انکشاف
- پاک ایران سرحدی تجارت بند ہونے اور ایل پی جی بحران کی تردید
- فیفا ورلڈکپ بھی سیاست سے داغدار، ایران کیلیے مختص ٹکٹ واپس لے لیے گئے
- وفاقی بجٹ: پی او ایس سسٹم نہ لگانے والے ٹیکس دہندگان کے لیے سخت سزائیں متعارف کروانے کا فیصلہ
- بجٹ منظوری کی راہ ہموار، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی پر وفاق اور صوبے رضامند ہو گئے
- شان مسعود کی جگہ نیا ٹیسٹ کپتان کون ہوگا؟
- قومی بچت اسکیموں اور سروا اسلامک اسکیموں کے لیے شرح منافع میں اضافہ
- پنجاب شدید گرمی کی لپیٹ میں؛ لاہور میں درجہ حرارت 44 ڈگری تک متوقع
- بنگلادیشی کھلاڑی لٹن داس پاکستان کے خلاف زہر اگلنے لگے