بیجنگ:امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے حال ہی میں دستخط کیے گئے مالی سال 2025 کے لیے نیشنل ڈیفنس اتھارائزیشن ایکٹ میں چین کو قومی سلامتی کے بڑے چیلنجز میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔
چینی وزارت دفاع کے ترجمان سینئر کرنل زانگ شیاؤ گانگ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ امریکی بل فوجی اخراجات میں اضافے اور بالادستی برقرار رکھنے کا ایک بہانہ ہے اور یہ چین کے اندرونی معاملات میں سراسر مداخلت ہے۔ چین اس پر شدید عدم اطمینان اور اس کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ امریکہ کا سب سے بڑا دشمن وہ خود ہے۔ 2001 سے لے کر اب تک بیرون ملک امریکہ کی جانب سے شروع کی جانے والی جنگوں اور فوجی کارروائیوں میں لاکھوں افراد ہلاک، زخمی اور بے گھر ہو چکے ہیں۔ امریکہ کی عسکریت پسندی نہ صرف دنیا میں پریشانی کا باعث بن رہی ہے بلکہ خود اُس پر بھی تیزی سے بیک فائر کر رہی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ چین نے ہمیشہ دفاعی نوعیت کی قومی دفاعی پالیسی پر عمل کیا ہے اور وہ کسی بھی ملک کے ساتھ ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں ہے۔ چینی فوج ہر قسم کی خلاف ورزیوں اور اشتعال انگیزیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی اور قومی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کا دفاع کرے گی۔
Trending
- سیکیورٹی اداروں کی کارروائی؛ بھارتی ایجنسی کے لیے جاسوسی کرنے والے 3 افراد گرفتار
- قلندرز اور گلیڈی ایٹرز کے کھلاڑیوں کی کینسر سے متاثر بچوں سے ملاقات
- امریکی انٹیلی جنس کا دعویٰ
- وزیراعظم شہباز شریف جلد سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہوں گے
- پاکستانی صلاحیتوں سے متعلق پاکستان کنفرنس 2026 کا انعقاد
- چین نے نائب وزیر خارجہ کو اچانک عہدے سے برطرف کردیا
- ایران اور امریکا کے اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، وزیراعظم
- امریکہ اور ایران کے وفود کی اسلام آباد واپسی کا امکان، امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا عندیہ
- پیکا قانون کی کہانی؛ صحافیوں اور شہریوں کے لیے کتنا خطرناک بن چکا ہے؟
- آبنائے ہرمز کی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے، : چین