واشنگٹن : باخبرامریکی اہلکار کے مطابق بائیڈن انتظامیہ اسرائیل کو 8 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار اور گولہ بارود فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ اسرائیل کی اہم گولہ بارود کی انوینٹری اور فضائی دفاعی صلاحیتوں کو پورا کیا جا سکے اور اسرائیل کی طویل مدتی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
متعدد امریکی میڈیا نے 4 جنوری کو نامعلوم امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹس دی ہیں کہ امریکی محکمہ خارجہ نے 3 جنوری کو سینیٹ اور ایوان نمائندگان کو اس معاملے سے آگاہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر کانگریس سے منظوری مل جاتی ہے تو بائیڈن انتظامیہ کی موجودہ مدت کے دوران اسرائیل کو اسلحے کی فروخت کا یہ آخری عمل ہو گا ۔
امریکہ کی براؤن یونیورسٹی میں کاسٹ آف وار پراجیکٹ کے مطابق بائیڈن انتظامیہ نے اکتوبر 2023 میں فلسطین اسرائیل تنازعے کے نئے دور کے آغاز کے بعد سے اسرائیل کو کم از کم 17.9 بلین ڈالر کی فوجی امداد فراہم کی ہے۔ 3 جنوری کو فلسطینی محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق غزہ کی پٹی میں فلسطین اسرائیل تنازع کے نئے دور کے آغاز کے بعد سے، اسرائیل کی فوجی کارروائیوں میں تقریبا 46000 فلسطینی جاں بحق اور تقریبا 1 لاکھ 9 ہزار زخمی ہوئے ہیں۔ غزہ کی پٹی میں شہری ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس سے بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی مسلسل فراہمی پر خود امریکہ میں بھی شدید عدم اطمینان پایا جاتا ہے۔
Trending
- امریکی انٹیلی جنس کا دعویٰ
- وزیراعظم شہباز شریف جلد سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہوں گے
- پاکستانی صلاحیتوں سے متعلق پاکستان کنفرنس 2026 کا انعقاد
- چین نے نائب وزیر خارجہ کو اچانک عہدے سے برطرف کردیا
- ایران اور امریکا کے اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، وزیراعظم
- امریکہ اور ایران کے وفود کی اسلام آباد واپسی کا امکان، امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا عندیہ
- پیکا قانون کی کہانی؛ صحافیوں اور شہریوں کے لیے کتنا خطرناک بن چکا ہے؟
- آبنائے ہرمز کی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے، : چین
- چین اور اسپین کے تعلقات میں مسلسل اور مستحکم ترقی ہوئی ہے، چینی صدر
- متحدہ عرب امارات چین کا جامع اسٹریٹجک شراکت داری ہے، چینی صدر