رواں سال چار بڑے عالمی چیلنجوں سے نمٹنا اہم کام ہے،سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے مکمل اجلاس میں ایک ورک رپورٹ پیش کی، جس میں دنیا کو درپیش چار بڑے چیلنجز پر زور دیا گیا۔ان چیلنجز میں علاقائی تنازعات، دولت میں عدم مساوات، موسمیاتی بحران اور ٹیکنالوجی کا بے قابو ہونا شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ چیلنجز 2025 میں ان کی توجہ کا مرکز ہوں گے ۔
گوتریس نے کہا کہ تنازعات کی شدت اور علاقائی صورتحال کی پیچیدگی سے عالمی امن و استحکام کو خطرہ ہے۔ امیر اور غریب کے درمیان عدم مساوات پر گہری غور و فکر یہ ظاہر کرتی ہے کہ ترقی پذیر ممالک اور کمزور گروہوں کی مساوی ترقی کی حمایت کے لیے عالمی اقتصادی نظام میں مکمل طور پر اصلاح کی ضرورت ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے دنیا پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔انہوں نے پیرس معاہدے کے اہداف کے حصول کے لیے کاربن کے عالمی اخراج میں کمی کو تیز کرنے اور صاف توانائی کی منتقلی کو فروغ دینے پر زور دیا۔ ٹیکنالوجی کے لحاظ سے انہوں نے نشاندہی کی کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی بڑے امکانات اور خطرات لئے ہوئے ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ ایک بین الاقوامی سائنسی گروپ کے قیام کو فروغ دے گا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مصنوعی ذہانت کا اطلاق اخلاقی اور انسانی حقوق کے معیارات کے مطابق ہو اور ترقی پذیر ممالک کو پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے AI کے استعمال میں مدد ملے۔
گوتریس نے یہ بھی کہا کہ دنیا کو درپیش سنگین صورتحال کے باوجود اب بھی کئی معاملات میں پیش رفت مثبت ہے ، جیسے کہ موسمیاتی چیلنجز ، صاف توانائی کی سرمایہ کاری میں اضافہ اور تعلیم کا پھیلاؤ ۔
Trending
- ہینڈ شیک تنازع کرکٹ سے نکل کر ٹینس کورٹ تک جا پہنچا
- ٹک ٹاکر جنت مرزا کی عید پر گوشت پیکنگ کی ویڈیو نے نئی بحث چھیڑ دی
- یوسین بولٹ کا ریکارڈ توڑنے والے کو ایک کروڑ ڈالر انعام کی پیشکش
- سہ فریقی سیریز: پاکستان ویمنز ٹیم پہلا میچ جمعہ کو ویسٹ انڈیز کیخلاف کھیلے گی
- راولپنڈی میں اراضی تنازع پر فائرنگ، باپ بیٹا جاں بحق
- چین میں خوابوں کی تکمیل کے متلاشی پاکستانی کاروباریوں کی سرحد پار گرمجوش کہانیاں
- خیبر پختونخوا؛ چیف سیکرٹری نے وزیراعلیٰ سے اختلافات کی تردید کردی
- چین۔پاکستان تعلقات ایک نئی اسٹریٹجک سطح پر پہنچ چکے ہیں، چینی میڈیا
- "تائیوان کی علیحدگی” کا راستہ بند گلی کی جانب لے جاتا ہے، چینی وزارتِ دفاع
- چین، امریکہ محصولات مذاکرات میں پیش رفت