بیجنگ :نئی امریکی حکومت، جسے برسرِ اقتدار آئے دو ہفتے سے بھی کم وقت ہوا ہے، نے متعدد ممالک پر “ٹیرف کے ہتھوڑے” برسانا شروع کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں “امریکہ فرسٹ” کی پالیسی کو تجارتی اور معاشی حلقوں میں بین الاقوامی سطح پر تنقید کا سامنا ہے اور اس حوالے سے نئی تشویش نے جنم لیا ہے۔ سی جی ٹی این کے ایک عالمی سروے نتائج کے مطابق، جواب دہندگان کا عمومی خیال ہے کہ امریکہ کا یکطرفہ طور پر دوسرے ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کا عمل امریکی معیشت کو حقیقی ترقی نہیں دلا سکتا، بلکہ کمزور ہوتی ہوئی عالمی معیشت کو مزید مشکلات سے دوچار کر رہا ہے۔ چینی میڈ یا نے ایک رپورٹ میں بتا یا کہ سروے میں، 90.53 فیصد عالمی جواب دہندگان نے امریکی حکومت کی جانب سے اپنائی گئی تجارتی تحفظ پسندانہ پالیسیوں کو عالمی تجارتی تنظیم کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ 90.68 فیصد کا خیال ہے کہ امریکہ کا دوسرے ممالک پر بلا امتیاز معاشی دباؤ ڈالنا اس کی دھونس اور جابرانہ پالیسیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ 92.14 فیصد کا ماننا ہے کہ امریکہ کا دوسرے ممالک پر معاشی دباؤ ڈالنا عالمی مارکیٹ کے استحکام کو شدید متاثر کر رہا ہے اور عالمی معاشی بحالی پر طویل المدتی منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں، امریکہ نے عالمی تجارتی تنظیم کے بنیادی اصولوں کو مسلسل کمزور کیا ہے اور عالمی تجارتی تنظیم کے تنازعات کے حل کے طریقہ کار کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف اپنے قومی قوانین کی بنیاد پر بین الاقوامی تجارتی تنازعات کو ہوا دی ہے۔ عالمی تجارتی تنظیم کی جانب سے امریکہ کے “سیکشن 301” ٹیرف اقدامات کو ڈبلیو ٹی او کے اصولوں کے خلاف قرار دینے کے باوجود، امریکہ نے کچھ ممالک کی بحری صنعت، لاجسٹکس اور جہاز سازی کے شعبوں کی تحقیقات جاری رکھی ہیں اور کچھ درآمدی مصنوعات پر ٹیرف میں اضافہ کیا ہے۔ امریکی حکومت کا دوسرے ممالک پر یکطرفہ ٹیرف عائد کرنے کا عمل آخرکار امریکی صارفین کو ہی بھگتنا پڑے گا، اور اس کے روایتی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں دراڑیں پڑ سکتی ہیں۔ موڈیز کمپنی کے اندازوں کے مطابق، امریکہ کے چین پر عائد کردہ ٹیرف کا 92 فیصد بوجھ امریکی صارفین اٹھا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکی خاندانوں کو ہر سال ٹیرف کی وجہ سے 1300 ڈالر کا اضافی خرچ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ، 61 فیصد عالمی جواب دہندگان کا خیال ہے کہ امریکہ کی ٹیرف پالیسیاں امریکی شہریوں کی زندگیوں پر سنگین منفی اثرات مرتب کریں گی۔ امریکہ کی ٹیرف پالیسیوں کے جواب میں، متعدد ممالک نے جوابی اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر “تجارتی جنگ” چھڑ سکتی ہے۔ سروے میں، 53.8 فیصد یورپی ممالک کے جواب دہندگان کا خیال ہے کہ امریکہ کی تجارتی رکاوٹیں عالمی معیشت پر سنگین منفی اثرات مرتب کریں گی۔ 67 فیصد عالمی جواب دہندگان کا ماننا ہے کہ نئی امریکی حکومت کی “امریکہ فرسٹ” پالیسی اس کے روایتی اتحادی ممالک کو نظر انداز کرنے اور انہیں الگ تھلگ محسوس کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ 65 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ نئی امریکی حکومت کی خارجہ پالیسیاں بین الاقوامی سطح پر اس کی قیادت کو کمزور کر رہی ہیں۔ یہ اعداد و شمار سی جی ٹی این کے دو عالمی سروے اور متعدد آن لائن سرویز سے حاصل کیے گئے ہیں، جن میں 38 ممالک کے 14071 جواب دہندگان شامل تھے۔ ان میں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، جاپان جیسے ترقی یافتہ ممالک کے جواب دہندگان کے ساتھ ساتھ بھارت، جنوبی افریقہ، برازیل، میکسیکو جیسے ترقی پذیر ممالک کے جواب دہندگان بھی شامل ہیں۔
Trending
- چین برکس تعاون کو مستحکم مستقبل کی جانب لے جائے گا، بین الاقوامی شخصیات
- ملک میں ایک تولہ سونے کی قیمت 400 روپے بڑھ گئی
- رضا اللہ کا تیز رفتاری سے بد ترین کارکردگی تک کا سفر
- ’تمہیں سمجھنا مشکل ہے‘، سیف علی خان نے اہلیہ کرینہ کپور کو ایسا کیوں کہا؟
- صائم ایوب کو سی پی ایل سے بلا کر کھلانا ٹیسٹ کرکٹ کی توہین ہے، ناصر حسین
- برکس تعاون میکانزم کو مسلسل فروغ مل رہا ہے، چینی صدر
- ’وہ مجھے بیوی نہیں، کچھ اور سمجھتے تھے‘، ایلون مسک کی سابقہ اہلیہ کے چونکا دینے والے انکشافات
- مٹی کا تیل 17روپے 35 پیسے فی لیٹر مہنگا
- چین کی بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی تعاون مضبوط بنانے کی اپیل
- مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے حوالے سے چین کا کردار قابل تحسین ہے ، سابق وزیر اعظم اردن