یوکرین کے صدر زیلنسکی نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ اگر یوکرین میں امن کا واحد راستہ مذاکرات ہیں تو یوکرین امریکہ اور یورپ کے ساتھ مل کر روس کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کو تیار ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ شراکت دار ممالک کی طرف سے فراہم کی جانے والی موجودہ امداد روسی فوجیوں کو زیر کنٹرول علاقے سے باہر نکالنے کے لیے کافی نہیں اور یوکرین کو فوجی اور سفارتی ذرائع سے سرزمین کو دوبارہ حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
روسی صدارتی پریس سیکرٹری پیسکوف نے کہا کہ اگرچہ روس کے نزدیک زیلنسکی یوکرین کے جائز صدر نہیں ہیں لیکن روس ان کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے 28 جنوری کو روسی ٹی وی کے نمائندگان کے سوالات کے جواب میں کہا تھا کہ یوکرین کے ساتھ مستقبل میں ہونے والے ممکنہ مذاکرات میں روس ان نتائج کو حاصل کرنا چاہے گا جو اس کے اپنے مفاد میں ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ روس یوکرین سے مذاکرات کا مخالف نہیں لیکن دستخط شدہ حتمی دستاویز کو روس اور یوکرین دونوں کی طویل مدتی سلامتی کی ضمانت ہونا چاہیے۔
Trending
- کراچی: ڈاکٹرز کی غفلت، والدین پر قیامت ٹوٹ پڑی، 2بیٹوں کے بعد تیسری بچی میں بھی ایچ آئی وی کی تصدیق
- بی آر ٹی ییلو لائن کرپشن کیس: سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کی درخواست ضمانت مسترد
- نیویارک کے سمر فینسی فوڈ شو 2026 میں پاکستانی فوڈ مصنوعات کی دھوم
- سولر جنریشن کی تیزی سے توسیع کی وجہ سے بجلی کا شعبہ بنیادی تبدیلی سے گزر رہا ہے، وزیر توانائی
- ایف آئی اے کی جانب سے 39 ہزار سے زائد مسافروں کو آف لوڈ کیے جانے کا انکشاف
- گوادر پورٹ میں نئی تاریخ رقم، پہلی بار بین الاقوامی جہازوں کو ایندھن کی فراہمی
- دریائے سندھ پاکستان کی شہ رگ، سندھ کی روح، اس پر جارحیت ملک پر جارحیت ہوگی، مراد علی شاہ
- کینیا کے ایتھلیٹ ایمانوئل وانیونی نے 26 سال پرانا عالمی ریکارڈ توڑ دیا
- نائب وزیراعظم کا سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ، امریکا-ایران کشیدگی میں اضافے پر اظہارتشویش
- پاکستان کرکٹ ٹیم کو بڑا دھچکا، فیلڈنگ کوچ شین میک ڈرموٹ مستعفی