یوکرین کے صدر زیلنسکی نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ اگر یوکرین میں امن کا واحد راستہ مذاکرات ہیں تو یوکرین امریکہ اور یورپ کے ساتھ مل کر روس کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کو تیار ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ شراکت دار ممالک کی طرف سے فراہم کی جانے والی موجودہ امداد روسی فوجیوں کو زیر کنٹرول علاقے سے باہر نکالنے کے لیے کافی نہیں اور یوکرین کو فوجی اور سفارتی ذرائع سے سرزمین کو دوبارہ حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
روسی صدارتی پریس سیکرٹری پیسکوف نے کہا کہ اگرچہ روس کے نزدیک زیلنسکی یوکرین کے جائز صدر نہیں ہیں لیکن روس ان کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے 28 جنوری کو روسی ٹی وی کے نمائندگان کے سوالات کے جواب میں کہا تھا کہ یوکرین کے ساتھ مستقبل میں ہونے والے ممکنہ مذاکرات میں روس ان نتائج کو حاصل کرنا چاہے گا جو اس کے اپنے مفاد میں ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ روس یوکرین سے مذاکرات کا مخالف نہیں لیکن دستخط شدہ حتمی دستاویز کو روس اور یوکرین دونوں کی طویل مدتی سلامتی کی ضمانت ہونا چاہیے۔
Trending
- پاکستان کے دفاع، سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، یوم تکبیر پر مسلح افواج کا عہد
- عیدالاضحیٰ پر بلاول بھٹو اور وزیراعظم شہباز شریف کا رابطہ، ملکی امور پر بھی تبادلہ خیال
- دفاع وطن کیلئے آخری قطرہ خون بھی بہا دیں گے، یوم تکبیر پر آئی جی پنجاب کا پیغام
- ایران امریکا مذاکرات میں اتار چڑھاؤ، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید گر گئیں
- معروف بھارتی اداکار رماکانت دیاما انتقال کرگئے
- فخر عالم نے وسیم اکرم اور مصباح الحق کیساتھ مزدلفہ سے خوبصورت مناظر شیئر کردیے
- جونیئر اسکواش چیمپئن شپ میں کامیاب شرکت، پاکستانی اسکواڈ واپس پہنچ گیا
- عید الاضحیٰ پر شوبز ستاروں کا شوخ انداز
- قومی مینز اور ویمنز کرکٹرز کی قوم کو عید کی مبارکباد
- جھانوی کپور نے وزن کم کرنے کا مجرب نسخہ بتادیا