بیجنگ : شی زانگ کے بارے میں میرا پہلا تاثر خوبصورت برف پوش پہاڑوں اور صاف جھیلوں کا نہیں تھا، بلکہ بچپن میں نصابی کتابوں اور ریڈیو پر سنی ہوئی خوفناک کہانیوں کا تھا: پرانا شی زانگ مذہب اور ریاست کے اتحاد پر مبنی جاگیردارانہ غلامی کا نظام تھا، جہاں 95% آبادی انتہائی غربت اور ظلم میں زندگی گزارتی تھی۔ یہاں بسنے والے افراد کو انفرادی آزادی تک حاصل نہیں تھی، انہیں خریدا اور بیچا جا سکتا تھا، سزا دی جا سکتی تھی، حتیٰ کہ قتل بھی کیا جا سکتا تھا۔ غلاموں کے مالک اپنے غلاموں کی آنکھیں نکالنے، پاؤں کاٹنے جیسے مظالم کرتے تھے، بلکہ ان کی کھال سے ڈرم بھی بنائے جاتے تھے۔ یہ تصاویر میرے ذہن پر ایسی چپک گئی تھیں کہ سالوں بعد، اگرچہ شی زانگ کو "زمین پر جنت” کے طور پر جانا جاتا ہے، میں اب بھی اس سے ڈرتا ہوں۔ آج بھی تبت میں ” سرفوں کی آزا…
Trending
- جنوبی کوریا کا ایران کو 5 لاکھ ڈالرز امداد فراہم کرنے کا فیصلہ
- شان مسعود اور سرفراز احمد سے متعلق پی سی بی کا اہم فیصلہ
- ورن دھون اپنی نئی فلم کے ٹیزر کے باعث مشکل میں پھنس گئے
- ایران جنگ کے باعث عالمی معیشت کو شدید نقصان، آئی ایم ایف نے وارننگ جاری کر دی
- ایران نے بذریعہ چینی جاسوس سیٹلائٹ امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا، خفیہ دستاویزات میں انکشاف
- لاہور میں پاکستان سینئر ہاکی ٹیم کے ٹرائلز کا آغاز، 99 کھلاڑیوں کی شرکت
- ’دو ٹکے کی دھرندھر‘: بالی ووڈ کے پروپیگنڈا کا کچا چٹھا، حقیقت یا سستی ڈرامہ بازی؟
- گبد بارڈر ٹرمینل فعال، ایران کے راستے وسطی ایشیاء تک نئی تجارتی راہداری کا آغاز
- ایران کے دنیا بھر میں منجمد اثاثوں کی مالیت کیا ہے؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں
- چہرے پر سنگین چوٹ لگنے کے بعد زندہ بچ جانا میری خوش قسمتی ہے، بین اسٹوکس