بیجنگ : شی زانگ کے بارے میں میرا پہلا تاثر خوبصورت برف پوش پہاڑوں اور صاف جھیلوں کا نہیں تھا، بلکہ بچپن میں نصابی کتابوں اور ریڈیو پر سنی ہوئی خوفناک کہانیوں کا تھا: پرانا شی زانگ مذہب اور ریاست کے اتحاد پر مبنی جاگیردارانہ غلامی کا نظام تھا، جہاں 95% آبادی انتہائی غربت اور ظلم میں زندگی گزارتی تھی۔ یہاں بسنے والے افراد کو انفرادی آزادی تک حاصل نہیں تھی، انہیں خریدا اور بیچا جا سکتا تھا، سزا دی جا سکتی تھی، حتیٰ کہ قتل بھی کیا جا سکتا تھا۔ غلاموں کے مالک اپنے غلاموں کی آنکھیں نکالنے، پاؤں کاٹنے جیسے مظالم کرتے تھے، بلکہ ان کی کھال سے ڈرم بھی بنائے جاتے تھے۔ یہ تصاویر میرے ذہن پر ایسی چپک گئی تھیں کہ سالوں بعد، اگرچہ شی زانگ کو "زمین پر جنت” کے طور پر جانا جاتا ہے، میں اب بھی اس سے ڈرتا ہوں۔ آج بھی تبت میں ” سرفوں کی آزا…
Trending
- لوڈشیڈنگ کا مقصد صارفین کو اضافی بل سے بچانا ہے، ترجمان بجلی سپلائی کمپنی
- پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 1 لاکھ 72 ہزار کی حد بحال
- چین اور اٹلی کا دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق
- چین میں سرمایہ کاری کاروباری اداروں کے لیے ناگزیر انتخاب ، عالمی سروے نتائج
- چینی فلمی صنعت دنیا کے لیے چین کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے،عالمی سروے نتائج
- پاک ترک کمانڈوز اور اسپیشل فورسز کی مشترکہ مشق ’’جناحXIII‘‘ کامیابی سے مکمل
- چین اور جبوتی کی روایتی دوستی بہت دیرینہ ہے، چینی صدر
- چین نے ہمیشہ ترکمانستان کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کی حمایت کی ہے، چینی نائب وزیر اعظم
- جاپان میں چینی شہریوں کے خلاف امتیازی سلوک کے واقعات میں نمایاں اضافہ
- جاپان کی جانب سے آبنائے تائیوان میں سیلف ڈیفنس فورس کے جہاز بھیجنا ایک دہری غلطی ہے، چینی وزارت خارجہ