بیجنگ : شی زانگ کے بارے میں میرا پہلا تاثر خوبصورت برف پوش پہاڑوں اور صاف جھیلوں کا نہیں تھا، بلکہ بچپن میں نصابی کتابوں اور ریڈیو پر سنی ہوئی خوفناک کہانیوں کا تھا: پرانا شی زانگ مذہب اور ریاست کے اتحاد پر مبنی جاگیردارانہ غلامی کا نظام تھا، جہاں 95% آبادی انتہائی غربت اور ظلم میں زندگی گزارتی تھی۔ یہاں بسنے والے افراد کو انفرادی آزادی تک حاصل نہیں تھی، انہیں خریدا اور بیچا جا سکتا تھا، سزا دی جا سکتی تھی، حتیٰ کہ قتل بھی کیا جا سکتا تھا۔ غلاموں کے مالک اپنے غلاموں کی آنکھیں نکالنے، پاؤں کاٹنے جیسے مظالم کرتے تھے، بلکہ ان کی کھال سے ڈرم بھی بنائے جاتے تھے۔ یہ تصاویر میرے ذہن پر ایسی چپک گئی تھیں کہ سالوں بعد، اگرچہ شی زانگ کو “زمین پر جنت” کے طور پر جانا جاتا ہے، میں اب بھی اس سے ڈرتا ہوں۔ آج بھی تبت میں ” سرفوں کی آزا…
Trending
- نیلوفر بختیار چوہدری شجاعت حسین کی سینئر ایڈوائزر مقرر، فرخ خان اور فوزیہ ناز کی مبارکباد
- آزاد کشمیر کے انتخابی حلقوں میں مبینہ بے ضابطگیاں، پی پی کا الیکشن کمیشن سے فوری مداخلت کا مطالبہ
- روئی کی قیمتوں میں تیزی، فی من 500 روپے اضافہ
- بلاول نے آزاد کشمیر انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بھی دھاندلی کا الزام عائد کردیا
- لاہور؛ نشے کے عادی شخص کا بیوی اور 3 بیٹیوں پر چھری سے حملہ، ملزم گرفتار
- آزاد کشمیر الیکشن الٹرا فارم 47 والا نظر آ رہا ہے، ندیم افضل چن
- کراچی بوندا باندی اور ہلکی بارش سے موسم خوشگوار، مزید بارشوں کی پیشگوئی
- پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے، پی ڈی ایم اے
- دیر بالا: طوفانی بارشوں سے تباہی، مرکزی شاہراہ بند، پل بہہ گیا، سیاح اور مسافر پھنس گئے
- کراچی میں یوم شہدائے سندھ پولیس ریس، ہزاروں افراد کی شرکت