بیجنگ : چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے امریکہ کی طرف سے بعض مصنوعات پر “ریسیپروکل محصولات” سے استثنیٰ دینے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ امریکہ کی جانب سے بعض تجارتی شراکت داروں پر اعلیٰ “ریسیپروکل محصولات” عائد کرنے میں عارضی تخفیف کے بعد پالیسی میں دوسری ایڈجسٹمنٹ ہے۔ یہ یکطرفہ “ریسیپروکل محصولات” کی غلط طریقہ کار کو درست کرنے کی طرف امریکہ کا ایک چھوٹا سا قدم ہے۔ 2 اپریل سے نافذ ہونے والے “ریسیپروکل محصولات” نے نہ ہی امریکہ کے کسی مسئلے کو حل کیا بلکہ بین الاقوامی اقتصادی اور تجارتی نظم کو شدید متاثر کیا، کاروباری اداروں کی عام پیداواری سرگرمیوں اور عوامی زندگی پر منفی اثرات ڈالے، جو نہ صرف دوسروں کو بلکہ خود کو بھی نقصان پہنچاتا ہے ۔ترجمان نے کہا کہ چین کا چین-امریکہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے حوالے سے موقف مستقل ہے۔ چین امریکہ پر زور دیتا ہے کہ وہ عالمی برادری اور اندرونی حلقوں کی معقول آوازوں کو تسلیم کرتے ہوئے غلطیوں کی اصلاح کی طرف بڑا قدم اٹھائے، “ریسیپروکل محصولات” کی غلط پالیسی کو مکمل ختم کرے، اور باہمی احترام اور مساوی مکالمے کے ذریعے اختلافات کو حل کرنے کے صحیح راستے پر واپس آئے۔
Trending
- روسی فوج کا یوکرین کی اوڈیسا، چورنومورسک اور ازمائیل بندرگاہوں پر حملہ
- چین،دستاویزی فلم ” دیاویو جزائر: لہروں کے نیچے چھپی حقیقت” کی عالمی سطح پر ٹیلی کاسٹ
- چین اور مالدیپ کے درمیان دوستانہ تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے، چینی صدر
- متعدد ممالک میں چین کے بارے میں مثبت رائے امریکہ سے زیادہ، پیو سروے نتائج
- چین کا پاپوا نیو گنی کی جانب سے تائی پے اکنامک آفس بند کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم
- چین میں ونڈ اور سولر پاور کی تنصیب نے تھرمل پاور کو پیچھے چھوڑ دیا
- چین کا کرغزستان کی علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت جاری رکھنے کا اعلان
- چین اور پاکستان کے تعلقات ہمیشہ وقت کے تقاضوں پر پورا اترتے آئے ہیں، چینی وزیر خارجہ
- ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کوالیفائی ایونٹ کے لیگ میچ میں قومی ٹیم منجمنٹ کا انوکھا کارنامہ
- الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کا انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا انتباہ