بیجنگ : چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے امریکہ کی طرف سے بعض مصنوعات پر "ریسیپروکل محصولات” سے استثنیٰ دینے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ امریکہ کی جانب سے بعض تجارتی شراکت داروں پر اعلیٰ "ریسیپروکل محصولات” عائد کرنے میں عارضی تخفیف کے بعد پالیسی میں دوسری ایڈجسٹمنٹ ہے۔ یہ یکطرفہ "ریسیپروکل محصولات” کی غلط طریقہ کار کو درست کرنے کی طرف امریکہ کا ایک چھوٹا سا قدم ہے۔ 2 اپریل سے نافذ ہونے والے "ریسیپروکل محصولات” نے نہ ہی امریکہ کے کسی مسئلے کو حل کیا بلکہ بین الاقوامی اقتصادی اور تجارتی نظم کو شدید متاثر کیا، کاروباری اداروں کی عام پیداواری سرگرمیوں اور عوامی زندگی پر منفی اثرات ڈالے، جو نہ صرف دوسروں کو بلکہ خود کو بھی نقصان پہنچاتا ہے ۔ترجمان نے کہا کہ چین کا چین-امریکہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے حوالے سے موقف مستقل ہے۔ چین امریکہ پر زور دیتا ہے کہ وہ عالمی برادری اور اندرونی حلقوں کی معقول آوازوں کو تسلیم کرتے ہوئے غلطیوں کی اصلاح کی طرف بڑا قدم اٹھائے، "ریسیپروکل محصولات” کی غلط پالیسی کو مکمل ختم کرے، اور باہمی احترام اور مساوی مکالمے کے ذریعے اختلافات کو حل کرنے کے صحیح راستے پر واپس آئے۔
Trending
- کرکٹ میچز پر آن لائن جوا لگانے والوں کیخلاف بڑا کریک ڈاؤن
- آشا بھوسلے کی موت کی وجہ کیا بنی؟ ڈاکٹرز نے انکشاف کر دیا
- پاکستان اور آئی ایم ایف کا نئے پروگرام کیلیے اسٹاف لیول کا معاہدہ طے
- آسٹریلوی بلے باز ٹم ڈیوڈ آئی پی ایل میں بڑی مشکل میں پھنس گئے
- لائیو شو میں غیر اخلاقی حرکت پر فضا علی کا ردعمل سامنے آگیا
- فیفا سیکریٹری جنرل کا صدر پی ایف ایف کی قیادت پر بھرپور اعتماد
- بھارتی پروپیگنڈا فلم ’دھرندھر‘ کے جواب میں ’میرا لیاری‘ ریلیز کیلئے تیار
- امریکا کا کتائب حزب اللہ کے سربراہ کی گرفتاری پر 10ملین ڈالر انعام کا اعلان
- آئی ایل ٹی ٹوئنٹی کے پانچویں سیزن کا آغاز کب ہوگا؟ تاریخ کا اعلان
- وائرل بھارتی کامیڈین سمے رائنا کی دولت کتنی ہے؟ حیران کن انکشاف