واشنگٹن :عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے امریکہ میں عالمی مانیٹری اور مالیاتی کمیٹی (آئی ایم ایف سی) کا 51 واں اجلاس منعقد کیا۔ پیپلز بینک آف چائنا کے گورنر پان گونگ شنگ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ امریکہ کی جانب سے محصولات کے بےجا اطلاق نے تمام ممالک کے جائز حقوق و مفادات کی سنگین خلاف ورزی کی ہے، قواعد پر مبنی کثیر الجہتی گورننس سسٹم کو شدید نقصان پہنچایا ہے، عالمی معاشی نظام کو شدید متاثر کیا ہے اور عالمی معیشت کی طویل مدتی مستحکم ترقی کو کمزور کیا ہے ، جو ابھرتی ہوئی منڈیوں اور ترقی پذیر ممالک کے لئے سنگین چیلنج ہے۔انہوں نے 25 تاریخ کو ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا کے ساتھ ملاقات میں نشاندہی کی کہ یکطرفہ محصولات اور تحفظ پسندی نے بین الاقوامی اقتصادی اور تجارتی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور عالمی معیشت پر گہرےمنفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ پیپلز بینک آف چائنا ورلڈ بینک کے ساتھ عملی مالیاتی تعاون کو مزید گہرا کرنے، حقیقی کثیر الجہتی پر عمل جاری رکھنے اور مشترکہ طور پر عالمی اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ 24 اپریل کو ورلڈ بینک نے واشنگٹن میں ترقیاتی کمیٹی کا 111 واں اجلاس منعقد کیا۔ چین کے وزیر خزانہ لان فوآن نےاجلاس سے اپنی تقریر میں ورلڈ بینک سمیت دیگر بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ عدم امتیاز اور آزاد تجارت کے اصولوں کی وکالت کریں اور کھلے پن اور تعاون پر مبنی بین الاقوامی ماحول کو مشترکہ طور پر برقرار رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اپنے دروازے مزید کھولنے اور باہمی فائدے کے حصول کے لئے دنیا کے ساتھ چین کی بڑی مارکیٹ کا اشتراک کرنے کے لئے تیار ہے۔
Trending
- پاسپورٹ نہ ہونے والی بات بلکل غلط ہے، رضا اللہ نے حقیقت سے پردہ اٹھا دیا
- استحکام پاکستان پارٹی کا وفاق، پنجاب اور گلگت سے آزادکشمیر تک پارلیمانی قوت بننے کا سفر
- یو ایس اوپن: پہلی مرتبہ فائنل میں پہنچنے والے بین شیلٹن کو زیوریو کا چیلنج درپیش
- شاہین آفریدی کا ٹیسٹ ٹیم میں واپسی کا عزم، ریڈ بال کرکٹ کو پہلی ترجیح قرار دے دیا
- ایران سے پاکستان کی درآمدات میں 17 فیصد اضافہ
- رضا اللہ کی دھواں دار بیٹنگ سے انگلینڈ بے بس، سابق انگلش کپتان اپنی ٹیم پر برس پڑے
- کرسٹیانو رونالڈو ایک انسٹاگرام پوسٹ کا کتنا معاوضہ لیتے ہیں؟ حیران کن انکشاف
- چینی صدر کی برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کامیابی سے مکمل
- چائنا انٹرنیشنل فیئر فار ٹریڈ ان سروسز ، کثیر القومی کمپنیوں کے لیے چین کے نئے مواقع کا مرکز بن گیا
- نئے عہد کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے پیش رو قوت بنیں اور بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو آگے بڑھائیں، چینی صدر