اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وفد 13 مئی کو قطر کے دارالحکومت دوحہ روانہ ہوگا، جہاں وہ حماس کے ساتھ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے پر بالواسطہ مذاکرات کرے گا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اسی روز امریکی خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطیٰ بریٹ میک گورک سے ملاقات کی، جس میں نیتن یاہو نے زور دے کر کہا کہ مذاکرات صرف ” گولہ باری کے سائے ” میں ہوں گے۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسرائیل اب بھی کسی ایسے معاہدے کی مخالفت کرتا ہے جس میں جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنے پر بات چیت کی ضرورت ہو۔
دوسری جانب حماس نے اپنے 11 مئی کے بیان میں کہا تھا کہ وہ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ہر ممکن کوشش کے لیے تیار ہے، جس کا مقصد جنگ بندی، قیدیوں کی رہائی، اور غزہ کی پٹی کے انتظام کے لیے ایک آزاد اور پیشہ ور کمیٹی کا قیام ہے تاکہ خطے میں طویل مدتی امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے، تعمیر نو کو ممکن بنایا جا سکے اور محاصرے کا خاتمہ کیا جا سکے۔
Trending
- وفاقی حکومت کی معاشی شرح نمو، زیادہ تر معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کا انکشاف
- انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس اور بولر گَس ایٹکنسن کیخلاف بڑا فیصلہ!
- National Economic Council approves budget 2026-2027
- پاکستان آرمی نے 31 ویں نیشنل ٹیبل ٹینس چیمپین شپ جیت کر اپنے اعزاز کا کامیاب دفاع کیا
- بجٹ میں ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں کیلئے ٹیکس ریلیف دیے جانے کا امکان
- پنجاب سے ملحق چیک پوسٹوں سے پختونخوا کو گندم اور آٹا نہیں دیا جارہا، گورنر کے پی
- سابق ٹیسٹ کپتان یونس خان نے پی سی بی کیساتھ کام کرنے کیلیے رضامندی ظاہر کردی
- حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان رئیل اسٹیٹ سیکٹر کیلئے ریلیف پیکیج پر اتفاق رائے نہ ہوسکا
- سفارتی امور پر چینی صدر کے منتخب کلام” کی جلد اوّل اور جلد دوم کی اشاعت
- کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور بھارتی میڈیا کا مذموم عزائم کیلیے گٹھ جوڑ بے نقاب