اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وفد 13 مئی کو قطر کے دارالحکومت دوحہ روانہ ہوگا، جہاں وہ حماس کے ساتھ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے پر بالواسطہ مذاکرات کرے گا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اسی روز امریکی خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطیٰ بریٹ میک گورک سے ملاقات کی، جس میں نیتن یاہو نے زور دے کر کہا کہ مذاکرات صرف ” گولہ باری کے سائے ” میں ہوں گے۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسرائیل اب بھی کسی ایسے معاہدے کی مخالفت کرتا ہے جس میں جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنے پر بات چیت کی ضرورت ہو۔
دوسری جانب حماس نے اپنے 11 مئی کے بیان میں کہا تھا کہ وہ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ہر ممکن کوشش کے لیے تیار ہے، جس کا مقصد جنگ بندی، قیدیوں کی رہائی، اور غزہ کی پٹی کے انتظام کے لیے ایک آزاد اور پیشہ ور کمیٹی کا قیام ہے تاکہ خطے میں طویل مدتی امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے، تعمیر نو کو ممکن بنایا جا سکے اور محاصرے کا خاتمہ کیا جا سکے۔
Trending
- شوٹنگ کے دوران اداکارہ کے پرس سے ہزاروں روپے چوری
- پہلی ششماہی میں معیشت کی ترقی رفتار 3 اعشاریہ 8 فیصد ہے، جمیل احمد
- آسٹریلوی ٹیم کے دورہ بنگلادیش کے شیڈول کا اعلان
- ’’مجھے کافر قرار دے دیا گیا!‘‘ حمزہ علی عباسی کا حیران کن انکشاف
- پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاروں کی کمپنی رجسٹریشن میں اضافہ
- انگلینڈ کرکٹ کا کھلاڑیوں کی اہلیت کے قوانین میں تبدیلی پر غور
- انڈسٹری ایل این جی بحران کا شکار ہے، تاجر برادری
- سعودی عرب کا حج پرمٹ لازمی قرار، خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا انتباہ
- ملکی تاریخ کی سب سے بڑی میراتھن اور سائیکلنگ ریس کی تیاریاں مکمل
- پاکستان نے عالمی ادائیگیاں وقت پر کیں، زرمبادلہ ذخائر پر زیادہ اثر نہیں ہونے دیا