نیویارک:چائنا میڈیا گروپ کے نامہ نگاروں کو معلوم ہوا کہ امریکی وفاقی عدالت نے 2 اپریل کو “یوم آزادی” کے موقع پر امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ ٹیرف پالیسی کو نافذ ہونے سے روک دیا اور فیصلہ سنایا کہ ٹرمپ کا یہ حکم اپنے اختیارات سے تجاوز ہے کہ وہ ان ممالک پر جامع محصولات عائد کرے جو امریکہ کو درآمدات کے مقابلے میں زیادہ برآمدات کرتے ہیں۔
نیو یارک مین ہٹن میں بین الاقوامی تجارتی عدالت کے مطابق، امریکی آئین امریکی کانگریس کو دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت کو منظم کرنے کے خصوصی اختیارات دیتا ہے، اور امریکی معیشت کے تحفظ کے لئے صدر کے مبینہ ہنگامی اختیارات ان اختیارات سے تجاوز نہیں کرتے ہیں.
امریکہ میں ایک غیر منافع بخش اور غیر جانبدار تنظیم سینٹر فار لبرل جسٹس نے محصولات سے متاثر ہونے والے پانچ امریکی چھوٹے کاروباری اداروں کی جانب سے مقدمہ دائر کیا ۔یہ مقدمہ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کے لیے پہلا بڑا قانونی چیلنج ہے۔
Trending
- پہلے نصف سال میں چین میں سماجی لاجسٹکس کا مجموعی حجم 181 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گیا
- چین کا ترکیہ سے ڈبلیو ٹی او کے پینل فیصلے کا احترام کرتے ہوئے عملی اقدامات کا مطالبہ
- چین میں رواں سال 4 لاکھ 53 ہزار ایجادی پیٹنٹس کی منظوری
- سی پیک کے تحت پاکستانی آم کی چینی منڈی میں فروخت میں مسلسل اضافہ
- زائد پیداواری صلاحیت”: صرف چین کو ناپنے کا ایک سیاسی پیمانہ
- چین اور پیرو کے تعلقات لاطینی امریکی ممالک میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، چینی عہدیدار
- چین اور ساؤ ٹومے و پرنسیپے کے تعلقات نے مثبت رفتار سے ترقی کی ہے، چینی صدر
- چین دنیا بھر کے امن پسند عوام کے ساتھ مل کر تاریخی انصاف کا دفاع جاری رکھے گا ، چینی وزارتِ خارجہ
- گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو نے عالمی ترقی کے فروغ کے لیے چینی دانش کو اجاگر کیا، چینی وزیر خارجہ
- چین کا نیو نیو ٹریو روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور اختراعی ادویات ، دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے، رپورٹ