نیویارک:چائنا میڈیا گروپ کے نامہ نگاروں کو معلوم ہوا کہ امریکی وفاقی عدالت نے 2 اپریل کو “یوم آزادی” کے موقع پر امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ ٹیرف پالیسی کو نافذ ہونے سے روک دیا اور فیصلہ سنایا کہ ٹرمپ کا یہ حکم اپنے اختیارات سے تجاوز ہے کہ وہ ان ممالک پر جامع محصولات عائد کرے جو امریکہ کو درآمدات کے مقابلے میں زیادہ برآمدات کرتے ہیں۔
نیو یارک مین ہٹن میں بین الاقوامی تجارتی عدالت کے مطابق، امریکی آئین امریکی کانگریس کو دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت کو منظم کرنے کے خصوصی اختیارات دیتا ہے، اور امریکی معیشت کے تحفظ کے لئے صدر کے مبینہ ہنگامی اختیارات ان اختیارات سے تجاوز نہیں کرتے ہیں.
امریکہ میں ایک غیر منافع بخش اور غیر جانبدار تنظیم سینٹر فار لبرل جسٹس نے محصولات سے متاثر ہونے والے پانچ امریکی چھوٹے کاروباری اداروں کی جانب سے مقدمہ دائر کیا ۔یہ مقدمہ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کے لیے پہلا بڑا قانونی چیلنج ہے۔
Trending
- جنگ ستمبر کا 13واں روز؛ پاک فوج کی پیش قدمی جاری، بھارت کو بھاری جانی و عسکری نقصان
- مائیک ہیسن مستقل ٹیسٹ کوچ کی ذمہ داری سنبھالنے کو تیار
- جماعت اسلامی سے پیٹرولیم لیوی پر مذاکرات، حکومت نے مزید مہلت مانگ لی
- مشکوک انجری اور ڈسپلن کی خلاف ورزی پر امام الحق کیخلاف ابتدائی رپورٹ تیار
- کراچی؛ اے ٹی ایم میں شہریوں کو لوٹنے والا ملزم گرفتار، ویڈیو بھی سامنے آگئی
- سلمان علی آغا نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں اہم سنگِ میل عبور کر لیا
- خام تیل کی قیمت 107 ڈالرز سے تجاوز کر گئی
- وزیراعظم کا سعودی ولی عہد سے رابطہ، حوثی باغیوں کے حملوں پر اظہار مذمت
- پاکستان کی ٹیسٹ رینکنگ مزید گر گئی، ٹیم ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں آخری نمبر پر آگئی
- کراچی پورٹ کی تاریخی کارکردگی، خلیجی تنازع نے نئے تجارتی مواقع پیدا کر دیے