روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک بات چیت ہوئی جس کے دوران فریقین نے دوطرفہ تعلقات، یوکرین کے مسئلے، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا۔ کریملن کی ویب سائٹ کے مطابق پیوٹن اور ٹرمپ کے درمیان بات چیت تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ روس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تمام تنازعات، اختلافات اور تصادم کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہئے۔
بعد ازاں امریکی صدر ٹرمپ نے امریکہ میں اینڈریوز ایئر فورس بیس پر صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے یہ کہا کہ پیوٹن کے ساتھ بات چیت میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس سے ناخوش ہیں۔
Trending
- قلندرز اور گلیڈی ایٹرز کے کھلاڑیوں کی کینسر سے متاثر بچوں سے ملاقات
- امریکی انٹیلی جنس کا دعویٰ
- وزیراعظم شہباز شریف جلد سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہوں گے
- پاکستانی صلاحیتوں سے متعلق پاکستان کنفرنس 2026 کا انعقاد
- چین نے نائب وزیر خارجہ کو اچانک عہدے سے برطرف کردیا
- ایران اور امریکا کے اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، وزیراعظم
- امریکہ اور ایران کے وفود کی اسلام آباد واپسی کا امکان، امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا عندیہ
- پیکا قانون کی کہانی؛ صحافیوں اور شہریوں کے لیے کتنا خطرناک بن چکا ہے؟
- آبنائے ہرمز کی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے، : چین
- چین اور اسپین کے تعلقات میں مسلسل اور مستحکم ترقی ہوئی ہے، چینی صدر