چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے فلپائن کی جانب سے "بحیرہ جنوبی چین ثالثی کیس” کے فیصلے کے 9 سال مکمل ہونے پر جاری بیان پر تبصرہ کیا۔ ترجمان نے کہا کہ چین کی ’’بحیرہ جنوبی چین ثالثی کیس‘‘ پر پوزیشن مستقل اور واضح ہے، اور یہ "فیصلہ” ایک غیر قانونی، بے اثر اور محض ردی کا ٹکڑا ہے۔ چین اس نام نہاد فیصلے کو نہ تو قبول کرتا ہے نہ ہی تسلیم کرتا ہے، اور نہ ہی اس پر مبنی کسی بھی دعوے یا عمل کو مانتا ہے۔
چین کا ماننا ہے کہ، اول، "بحیرہ جنوبی چین کا ثالثی کیس” بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ دوسرا، ” بحیرہ جنوبی چین کا ثالثی کیس” اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے کنونشن کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ تیسرا، ” بحیرہ جنوبی چین کا ثالثی کیس” بحیرہ جنوبی چین کے بنیادی حقائق کو یکسر نظرا نداز کرتا ہے۔ چین متعلقہ ممالک کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ غیرقانونی فیصلے کے اس کاغذی ٹکڑے کو بار بار موضوع بحث نہ بنائیں، اور نہ ہی اسے بہانہ بنا کر چین کے حقوق کی خلاف ورزی اور اشتعال انگیزی کریں۔ ایسی حرکات کا نتیجہ محض نقصان اُٹھانا” اور "اپنے ہاتھوں اپنی تباہی” ہوگا۔
Trending
- پاکستان فری لانسر ایسوسی ایشن کا حکومت اور انٹرنیٹ کمپنیوں سے تیز رفتار انٹرنیٹ فراہمی کا مطالبہ
- کراچی پریس کلب کا نئے ممبران کو الاٹ کیے گئے پلاٹس کی جگہ کا دورہ
- چین اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ پر بچوں کے گالا کا انعقاد
- ہائی نان میں مقیم پاکستانی طالبہ چین-پاکستان ثقافتی تعلقات کے فروغ کے لئے سرگرم
- علامہ اقبال کی فکر ہمارے لیے آج بھی رہنمائی کا سرچشمہ ہے، فوزیہ ناز
- پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی
- لاہور میں کفایت شعاری مہم کی مبینہ خلاف ورزی
- سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو مزید 1 ارب ڈالرز کے فنڈز موصول
- پاکستان ایران امریکا تنازعہ کے مذاکرات کے ذریعے حل کا داعی ہے، محسن نقوی
- مصطفیٰ ملک کی سالگرہ،پارٹی راہنمائوں کے ساتھ مل کر کیک کاٹا