چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے فلپائن کی جانب سے “بحیرہ جنوبی چین ثالثی کیس” کے فیصلے کے 9 سال مکمل ہونے پر جاری بیان پر تبصرہ کیا۔ ترجمان نے کہا کہ چین کی ’’بحیرہ جنوبی چین ثالثی کیس‘‘ پر پوزیشن مستقل اور واضح ہے، اور یہ “فیصلہ” ایک غیر قانونی، بے اثر اور محض ردی کا ٹکڑا ہے۔ چین اس نام نہاد فیصلے کو نہ تو قبول کرتا ہے نہ ہی تسلیم کرتا ہے، اور نہ ہی اس پر مبنی کسی بھی دعوے یا عمل کو مانتا ہے۔
چین کا ماننا ہے کہ، اول، “بحیرہ جنوبی چین کا ثالثی کیس” بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ دوسرا، ” بحیرہ جنوبی چین کا ثالثی کیس” اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے کنونشن کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ تیسرا، ” بحیرہ جنوبی چین کا ثالثی کیس” بحیرہ جنوبی چین کے بنیادی حقائق کو یکسر نظرا نداز کرتا ہے۔ چین متعلقہ ممالک کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ غیرقانونی فیصلے کے اس کاغذی ٹکڑے کو بار بار موضوع بحث نہ بنائیں، اور نہ ہی اسے بہانہ بنا کر چین کے حقوق کی خلاف ورزی اور اشتعال انگیزی کریں۔ ایسی حرکات کا نتیجہ محض نقصان اُٹھانا” اور “اپنے ہاتھوں اپنی تباہی” ہوگا۔
Trending
- ایران کے حملوں سے ہونے والے امریکی نقصانات کی طویل فہرست سامنے آگئی
- داتا دربار کے اطراف منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی، بھاری مقدار میں چرس اور آئس برآمد
- دنیا کے معمر ترین پروفیشنل فٹبالر کا 4 سال بعد گول
- پنجاب بھر میں 2 ماہ کیلئے دفعہ 144 نافذ، دریاؤں اور ڈیموں میں نہانے پر پابندی
- ابھیشیک شرما زمبابوے کیخلاف بھی بری طرح ناکام
- جی ایس پی پلس رپورٹ ، پاکستان کیلیے پیشرفت اوردرپیش چیلنجز
- چین میں ٹیکس اور فیسوں کی مد میں مجموعی وصولیاں 167 کھرب یوآن تک پہنچ گئیں
- چین اور عالمی برادری کے سامنے جاپان ذمہ دارانہ جوابدہی پیش کرے، چینی سفارت خانہ
- امریکہ کا ایران کو سخت فوجی کارروائی کا انتباہ،تہران کی جانب سے مذاکرات کی تردید
- ٹورنٹو میں امریکی قونصل خانے پر رواں سال دوسری بار فائرنگ