چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے فلپائن کی جانب سے "بحیرہ جنوبی چین ثالثی کیس” کے فیصلے کے 9 سال مکمل ہونے پر جاری بیان پر تبصرہ کیا۔ ترجمان نے کہا کہ چین کی ’’بحیرہ جنوبی چین ثالثی کیس‘‘ پر پوزیشن مستقل اور واضح ہے، اور یہ "فیصلہ” ایک غیر قانونی، بے اثر اور محض ردی کا ٹکڑا ہے۔ چین اس نام نہاد فیصلے کو نہ تو قبول کرتا ہے نہ ہی تسلیم کرتا ہے، اور نہ ہی اس پر مبنی کسی بھی دعوے یا عمل کو مانتا ہے۔
چین کا ماننا ہے کہ، اول، "بحیرہ جنوبی چین کا ثالثی کیس” بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ دوسرا، ” بحیرہ جنوبی چین کا ثالثی کیس” اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے کنونشن کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ تیسرا، ” بحیرہ جنوبی چین کا ثالثی کیس” بحیرہ جنوبی چین کے بنیادی حقائق کو یکسر نظرا نداز کرتا ہے۔ چین متعلقہ ممالک کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ غیرقانونی فیصلے کے اس کاغذی ٹکڑے کو بار بار موضوع بحث نہ بنائیں، اور نہ ہی اسے بہانہ بنا کر چین کے حقوق کی خلاف ورزی اور اشتعال انگیزی کریں۔ ایسی حرکات کا نتیجہ محض نقصان اُٹھانا” اور "اپنے ہاتھوں اپنی تباہی” ہوگا۔
Trending
- آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ جاری، صرف ایک پاکستانی کھلاڑی شامل
- لیونل میسی سمیت ارجنٹینا فٹبال ٹیم کے پلیئرز کے پاسپورٹ نمبر لیک ہوگئے
- ٹرمپ کا یوٹرن، ایران پر حملے موخر کرنے کا اعلان
- FIFA World Cup 2026 to have unique start, opening ceremonies to be held in three countries for the first time
- سعودی عرب نے 5سال بعد لبنانی درآمدات پر عائد پابندی ختم کردی
- اسکواش چیمپئن شپ: سندھ کے 8 کھلاڑی سیمی فائنل میں پہنچ گئے
- وفاقی حکومت کی معاشی شرح نمو، زیادہ تر معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کا انکشاف
- انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس اور بولر گَس ایٹکنسن کیخلاف بڑا فیصلہ!
- National Economic Council approves budget 2026-2027
- پاکستان آرمی نے 31 ویں نیشنل ٹیبل ٹینس چیمپین شپ جیت کر اپنے اعزاز کا کامیاب دفاع کیا