شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے 14 جولائی کو خبر دی کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے اسی دن جنوبی شام کے صوبہ سویدہ کے کئی مقامات پر فضائی حملے کیے۔
اسی دن شامی حکومت کے سفارتی محکمے نے ایک بیان جاری کیا جس میں صوبہ سویدہ کی صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا گیا اور مقامی مسلح گروہوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر تشدد بند کریں اور غیر قانونی ہتھیار حکومت کے حوالے کریں۔ بیان میں دیگر ممالک پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ شام کی خودمختاری کا احترام کریں اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کی حمایت نہ کریں۔
بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز کے دورے کے دوران سعودی عرب کے پریس ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں شامی حکومت کے محکمہ خارجہ کے سربراہ اسد بن حسن الشیبانی نے کہا کہ شامی دروز کا تحفظ شامی حکومت کی ذمہ داری ہے اور کسی بھی ملک کو شام کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا حق حاصل نہیں ہے۔
ادھر اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز نے 14 تاریخ کو کہا کہ آئی ڈی ایف نے اس دن سے قبل شامی حکومت کے ٹینکوں کے قافلے پر بمباری کی ، جو "شامی حکومت کے لئے ایک پیغام اور واضح انتباہ تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل شام میں دروز کو تکلیف نہیں ہونے دے گا۔
یاد رہے کہ 13 تاریخ کو صوبہ سویدہ میں شدید مسلح جھڑپیں ہوئی تھیں۔ گزشتہ سال دسمبر میں شام کی سنگین سیاسی صورتحال کے بعد اسرائیل نے "اپنے دفاع” کی بنا پر گولان کی پہاڑیوں کے بفر زون اور ملحقہ علاقوں پر قبضہ کرنے کے لئے فوجیں بھیجی تھیں، جنوبی شام میں نام نہاد "دفاعی زون” قائم کرنے کے لئے دروز سے تعاون مانگا تھا اور شامی حکومت کی افواج یا دیگر مسلح افواج کو جنوبی شام میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔
Trending
- پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ ذخائر 20 ارب ڈالر سے زائد ہوگئے
- پی ایس ایل: حیدرآباد کنگزمین نے راولپنڈیز کو 5 وکٹوں سے شکست دے دی
- سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کیلیے نادرا کا اہم پیغام
- انڈر 18 نیشنل ہاکی چیمپئن شپ؛ کون کونسی ٹیموں نے سیمی فائنل کیلیے کوالیفائی کر لیا؟
- پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے 2 ارب ڈالرز موصول
- ملتان میں جہانگیر ترین کا تعلیمی اقدام، اے پی ایس سکول میں جدید کمپیوٹر لیب کا افتتاح
- پی ایس ایل 11؛ اسلام آباد یونائٹیڈ کا کراچی کنگز کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
- روبوٹ ڈرون سے فوڈ ڈیلیوری اخراجات میں کمی
- مارچ میں آئی ٹی ایکسپورٹس ماہانہ دوسری بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں
- ایران امریکا مذاکرات کامیاب ہوئے تو ٹرمپ دستخط کیلیے خود پاکستان آئیں گے، مشاہد حسین سید