برازیل کے صدر لولا ڈی سلوا نے ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے ذریعے پورے برازیل میں پہلے سے ریکارڈ کی گئی تقریر نشر کی۔ اپنی تقریر میں انہوں نے امریکہ کی جانب سے یکطرفہ طور پر 50 فیصد تادیبی محصولات عائد کرنے کی مذمت کی۔
لولا ڈی سلوا نے اپنی تقریر میں برازیل کی عدلیہ پر جھوٹے الزامات عائد کرنے کے علاوہ تجارتی مذاکرات کو “بھتہ خور دباؤ” میں تبدیل کرنے پر امریکی حکومت کی مذمت کی، جو ملک کی خودمختاری کی سنگین توہین ہے۔ لولا نے اس بات کا اعادہ کیا کہ برازیل کثیر الجہتی اور ممالک کے درمیان تعاون پر یقین دلاتا ہے اور امریکی پالیسی کے تحت “کوئی فاتح نہیں ہے”۔
لولا نےمزید کہا کہ برازیل ڈبلیو ٹی او کے ساتھ تنازعات کے تصفیے اور” تجارتی باہمی تعاون کے قانون “کے تحت جوابی اقدامات سمیت تمام قانونی ذرائع استعمال کرے گا اور صنعت، سول سوسائٹی اور ٹریڈ یونینوں کو مشترکہ طور پر قومی مفادات اور معاشی خودمختاری کا دفاع کرنے کے لئے متحد کرے گا۔
Trending
- ایران پر حملوں سے متعلق امریکی قیادت میں اختلافات، جے ڈی وینس اور عسکری حکام کے خدشات سامنے آگئے
- روسی فوج کا یوکرین کی اوڈیسا، چورنومورسک اور ازمائیل بندرگاہوں پر حملہ
- چین،دستاویزی فلم ” دیاویو جزائر: لہروں کے نیچے چھپی حقیقت” کی عالمی سطح پر ٹیلی کاسٹ
- چین اور مالدیپ کے درمیان دوستانہ تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے، چینی صدر
- متعدد ممالک میں چین کے بارے میں مثبت رائے امریکہ سے زیادہ، پیو سروے نتائج
- چین کا پاپوا نیو گنی کی جانب سے تائی پے اکنامک آفس بند کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم
- چین میں ونڈ اور سولر پاور کی تنصیب نے تھرمل پاور کو پیچھے چھوڑ دیا
- چین کا کرغزستان کی علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت جاری رکھنے کا اعلان
- چین اور پاکستان کے تعلقات ہمیشہ وقت کے تقاضوں پر پورا اترتے آئے ہیں، چینی وزیر خارجہ
- ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کوالیفائی ایونٹ کے لیگ میچ میں قومی ٹیم منجمنٹ کا انوکھا کارنامہ