برازیل کے صدر لولا ڈی سلوا نے ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے ذریعے پورے برازیل میں پہلے سے ریکارڈ کی گئی تقریر نشر کی۔ اپنی تقریر میں انہوں نے امریکہ کی جانب سے یکطرفہ طور پر 50 فیصد تادیبی محصولات عائد کرنے کی مذمت کی۔
لولا ڈی سلوا نے اپنی تقریر میں برازیل کی عدلیہ پر جھوٹے الزامات عائد کرنے کے علاوہ تجارتی مذاکرات کو “بھتہ خور دباؤ” میں تبدیل کرنے پر امریکی حکومت کی مذمت کی، جو ملک کی خودمختاری کی سنگین توہین ہے۔ لولا نے اس بات کا اعادہ کیا کہ برازیل کثیر الجہتی اور ممالک کے درمیان تعاون پر یقین دلاتا ہے اور امریکی پالیسی کے تحت “کوئی فاتح نہیں ہے”۔
لولا نےمزید کہا کہ برازیل ڈبلیو ٹی او کے ساتھ تنازعات کے تصفیے اور” تجارتی باہمی تعاون کے قانون “کے تحت جوابی اقدامات سمیت تمام قانونی ذرائع استعمال کرے گا اور صنعت، سول سوسائٹی اور ٹریڈ یونینوں کو مشترکہ طور پر قومی مفادات اور معاشی خودمختاری کا دفاع کرنے کے لئے متحد کرے گا۔
Trending
- 11ویں بیلٹ اینڈ روڈ سمٹ میں پاکستان کا خصوصی اسٹال، تجارتی، سرمایہ کاری مواقع کی نمائش
- پیٹرول اور ڈیزل آج پھر مہنگا کردیا گیا
- 105 سالہ خاتون نے اپنی طویل زندگی کا راز بتا دیا
- بنگلادیش میں خسرے کی بدترین وبا، اسپتالوں میں جگہ کم پڑ گئی
- گڈز فاروڈنگ ایسوسی ایشن نے وزیراعظم کو خط لکھ دیا
- پیاز کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سامنے آ گئی
- ملک بھر کیلئے بجلی مزید مہنگی کردی گئی، صارفین پر 12 ارب سے زائد اضافی بوجھ پڑے گا
- امریکا چین پر بے بنیاد الزام تراشی سے گریز کرے، چینی وزارتِ خارجہ
- مصنوعی ذہانت کو انسانیت کی بھلائی کی راہ پر برقراررکھیں، چینی میڈیا
- ملک بھر کے اساتذہ نے تدریس کے شعبے میں بھرپور خدمات انجام دی ہیں، چینی صدر