برازیل کے صدر لولا ڈی سلوا نے ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے ذریعے پورے برازیل میں پہلے سے ریکارڈ کی گئی تقریر نشر کی۔ اپنی تقریر میں انہوں نے امریکہ کی جانب سے یکطرفہ طور پر 50 فیصد تادیبی محصولات عائد کرنے کی مذمت کی۔
لولا ڈی سلوا نے اپنی تقریر میں برازیل کی عدلیہ پر جھوٹے الزامات عائد کرنے کے علاوہ تجارتی مذاکرات کو "بھتہ خور دباؤ” میں تبدیل کرنے پر امریکی حکومت کی مذمت کی، جو ملک کی خودمختاری کی سنگین توہین ہے۔ لولا نے اس بات کا اعادہ کیا کہ برازیل کثیر الجہتی اور ممالک کے درمیان تعاون پر یقین دلاتا ہے اور امریکی پالیسی کے تحت "کوئی فاتح نہیں ہے”۔
لولا نےمزید کہا کہ برازیل ڈبلیو ٹی او کے ساتھ تنازعات کے تصفیے اور” تجارتی باہمی تعاون کے قانون "کے تحت جوابی اقدامات سمیت تمام قانونی ذرائع استعمال کرے گا اور صنعت، سول سوسائٹی اور ٹریڈ یونینوں کو مشترکہ طور پر قومی مفادات اور معاشی خودمختاری کا دفاع کرنے کے لئے متحد کرے گا۔
Trending
- کراچی کنگز کے کپتان ڈیوڈ وارنر فٹنس کے مسائل سے دو چار
- روئی کی قیمتیں دو سال کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں
- ترک صدر نے مذاکرات ناکام ہونے پر اسرائیل پر حملے کی دھمکی دے دی
- Pakistan makes a great start at the South Asian Jujitsu Championship 2026
- ایران کا بڑا فیصلہ، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز پر ٹول ٹیکس لازمی ہوگا
- ابھی کافی میچز ہیں خامیاں دور کر کے کامیابی کی کوشش کریں گے، اسامہ میر
- ایران کے خلاف جنگ پر 11ارب ڈالر سے زائد خرچ ہوچکے ہیں،اسرائیل کا اعتراف
- پی ایس ایل11؛ 20 میچز مکمل، پوائنٹس ٹیبل پر کونسی ٹیم کس پوزیشن پر ہے؟
- ایران امریکا ملاقات بہت اچھی رہی، بہت سے نکات پر اتفاق ہوا، ڈونلڈ ٹرمپ
- کوشل مینڈس پی ایس ایل چھوڑ کر آئی پی ایل جانے کے سوال پر خاموش رہ گئے