تحریر:۔ میر بشیر سلطان (ابن کشفی)
اللہ تعالی جل شانہ کے ننانوے صفاتی ناموں میں ایک نام المصور ہے جس کا مطلب ہے تصویر بنانے والا۔اللہ تبارک وتعالی نے اپنی تمام صفات سے اپنی مخلوق کو نوازا ہے ۔ اس کے بعد ان نسلوں نے آگے چل کر ان کو جلا بخشنے کے لیئے عرق ریزی اور جانفشانی سے کام جاری و ساری رکھااور اس وقت اب یہ صفات اپنی تمام ترانسانی کوششوں ںسے بام عروج پر ہیں

انسان اگر ہمت نہ ہارے اور حوصلے سے کام لیتا رہے تو کامیابی نہ صرف اس کے قدم چومتی ہے بلکہ ایک وقت آتا ہے جب وہ شہرت اور عروج کی بلندیوں پر پہنچ جاتاہے جو اس کی محنت اورجہد مسلسل کا ثمرہوتا ہے۔ اگرچہ اس ساری کائنات اور مخلوق کا ایک ایک ذرہ انسان کو حیرت زدہ کر دیتا ہے اور دست قدرت کے جا بجا نمونے اور نظارے دیکھ کر بے اختیار عش عش کر اٹھتا ہے۔ لیکن حضرت انسان کو بھی خالق کائنات نے ایسی باکمال صلاحیتو ں ںسے نوازا ہے کہ اس کی تخلیقات کو دیکھ کرنہ صرف دل جھوم اٹھتا ہے بلکہ ان ہاتھوں سے تراشے ہوئے اور بنائے ہوئے فن پارے ، شہ پارے اور دیگر محیر العقول نمونے دیکھ کر بے ساختہ ان کی عظمتوں اور صلاحیتوں کا بے اختیار معترف ہونا پڑتا ہے۔ ایسی ہی عظیم ہستیاں فنون لطیفہ کی دنیا کے درخشندہ آفتاب فن مصوری پر پوری آب و تاب کے ساتھ چھائی ہوئی ہیں ۔ان کے بنائے ہوئے شہ پاروں کو دیکھ کر انسان بے ساختہ داد وتحسین دینے اور فنکار کی ماہرانہ چابکدستی کو سراہنے پر مجبورہو جاتا ہے ۔ان ہی گوہر یک دانہ میں ایک نام صائمہ اشفاق کا ہے ۔

جو فن مصوری( خطاطی ) میں بے تاج اور عظیم المرتبت فنکارہ ہے۔ اس کے فن کی بوقلمونیوں کو دیکھ کر انسان بے ساختہ عش عش کر اٹھتا ہے ،اگرچہ صائمہ اشفاق نے فن مصوری کے ہر شعبے میںقسمت آزمائی کی ہے اور اپنی بھرپور صلاحیتوں کالوہا منوایا ہے مگر فن مصوری کی انتہائی باریک صنف خطاطی کو اپنا کر اپنی صلاحیتوں کا بھرپور لوہا منوایا ہے ۔ ۔ یوں تو اس فن کی ترویج میں ان کی دلسوزی اور جانسوزی کی ان گنت داستانیں پنہاں ہیں مگر اپنے جنون خیز کو مہمیزکر کے چا ردانگ عالم شہرت کا ڈنکا بجا دیا ہے ۔صائمہ اشفاق کے فن کے بارے میں کچھ کہنایا لکھناسورج کو چراغ دکھانے کے مترد اف ہے، صائمہ اشفاق کو فن خطاطی میں ان کی خدادادصلاحیتوں پر بے شمار ملکی اور بین الاقوامی اعزازت اور ایوارڈ ملے ہیں۔اسلامی فن خطاطی دانشورانہ اور فنکارانہ ورثہ کا مظہر ہے۔اس کی جڑیںں دنیائے اسلام سے صدیوں سے پیوستہ ہیں ، تمام پڑھے لکھے اوردانشور نیشنل کونسل آرٹس کی صائمہ اشفاق کو پاکستان کی انتہائی ممتاز خاتون فنکارہ قرار دیتے ہیں۔جس کی نہ صرف پاکستان اور بیرو ن ملک اپنے فن پاروں کی نمائش کی ایک طویل فہرست ہے ، بلکہ وہ کئی ملکی اور غیر ملکی کییگرافی ایوارڈ یافتہ ہیں
اللہ تعالی نے صائمہ اشفاق کو فن کی جس صلاحیت سے نوازا ہے اس میں کمال اور عبور حاصل کرنا تو دورکی بات ہے ا بتدائی مہارت حاصل کرنا بھی ہر کس وناکس کے بس کی بات نہیںہے
مسجد نبوی ص کے نقاش اعظم شفیق الزمان صائمہ کے فن کو سراہتے ہوئے رقمطراز ہیں ۔۔۔صائمہ اشفاق نے انتہائی محنت لگن اور دلجمعی سے بہت مختصر عرصے میں اصل خطاطی میں خوبصورت،دیدہ زیب فن پارے ترتیب دیے ہیں،۔۔۔۔نقاش المسجد النبوی الشریف اصغر علی ان کے فن کے بارے میں یوںرطب ا لسان ہیں۔۔۔۔۔صائمہ نے چند برسوں کی لگن اور جذبے کے سا تھ رنگوں اور خطاطی پر عبور حاصل کر لیا ہے۔ رنگوں کے امتزاج اور انتخاب سے وہ اپنے فن کو اس دلنشین انداز میںسجاتی ہیںکہ اس کی خطاطی دل موہ لینے والا فن پارہ بن جاتا ہے۔صائمہ نے اساتذہ کے ہنر و فن کا بغور مطالعہ کیا ہے اس نے بہتے نیلگوںسمندرسے موتی ڈھونڈھے ہیں۔ نیشنل کونسل آف ارٹس کے عالمی شہرت یافتہ مصور پروفیسراحمد خان نے بھی صائمہ کے فن کو نہ صرف سراہا ہے بلکہ انتائی قدر افزائی بھی کی ہے
صائمہ اشفاق کو اس بات کا افسوس ہے کہ پاکستان میں فنون لطیفہ کی کوئی پذیرائی نہ ہونے سے ہم جہاں بہت بڑی دولت بلکہ قیمتی زرمبادلہ سے بھی محروم ہو رہے ہیں،جبکہ بھارت نے آرٹ کی سرپرستی کر کے دنیا میں ایک مقام حاصل کیا ہوا ہے اور ان کے فنکاروں کے بنائے ہوئے فن پاروں سے اربوں ڈالر کا قیمیی زرمبادلہ کمایاجا رہا ہے جبکہ پاکستان میںفنون لطیفہ کے فنکاروں کی کوئی قدر اور عزت افزائی نہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ گوشہ تنہائی اور گمنامی میں چلے گئے ہیں ۔