اسرائیلی سلامتی کونسل کی جانب سے غزہ شہر پر قبضے کے منصوبے کی منظوری کے بعد، متعدد ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے اس اقدام کی مذمت کی اور اسرائیل پر زور دیا کہ وہ اپنے "جنگی منصوبے” کو فوری طور پر روک دے۔
اردن، مصر، سعودی عرب، ترکی، ایران، اور عرب لیگ نے ایک بیان جاری کیا، جس میں اسرائیلی سلامتی کونسل کی طرف سے غزہ کی پٹی پر فوجی کنٹرول کو جامع طور پر بڑھانے کے منصوبے کی منظوری کی شدید مذمت کی گئی۔ ان ممالک نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اس منصوبے پر عمل درآمد کو روکنے کے لیے اقدامات اُٹھائیں۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے کہا کہ غزہ میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کے فیصلے پر اسرائیلی حکومت کو غور کرنا چاہئے۔ یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے خبردار کیا کہ اسرائیلی فیصلے سے یورپی یونین اسرائیل تعلقات پر یقیناً اثر پڑے گا۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی، اسپین، پرتگال، نیدرلینڈز، بیلجیم، کینیڈا اور دیگر ممالک نے بھی 8 اگست کو بیانات جاری کرکے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ اس فیصلے پر "فوری طور پر نظر ثانی” کرے۔ جرمن چانسلر انجیلا مرز نے کہا، "ان حالات میں، جرمن حکومت غزہ کی پٹی میں استعمال ہونے والے کسی بھی فوجی ساز و سامان کی برآمد کی منظوری نہیں دے گی۔”
Trending
- پاکستانی صلاحیتوں سے متعلق پاکستان کنفرنس 2026 کا انعقاد
- چین نے نائب وزیر خارجہ کو اچانک عہدے سے برطرف کردیا
- ایران اور امریکا کے اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، وزیراعظم
- امریکہ اور ایران کے وفود کی اسلام آباد واپسی کا امکان، امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا عندیہ
- پیکا قانون کی کہانی؛ صحافیوں اور شہریوں کے لیے کتنا خطرناک بن چکا ہے؟
- آبنائے ہرمز کی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے، : چین
- چین اور اسپین کے تعلقات میں مسلسل اور مستحکم ترقی ہوئی ہے، چینی صدر
- متحدہ عرب امارات چین کا جامع اسٹریٹجک شراکت داری ہے، چینی صدر
- اقوامِ متحدہ کا یوم چینی زبان نیروبی میں منایا گیا
- چین کی جانب سے اسلام آبادمذاکرات کی تعریف