News Views Events

متحدہ عرب امارات چین کا جامع اسٹریٹجک شراکت داری ہے، چینی صدر

0

بیجنگ :(چائنا ڈیسک) چینی صدر شی جن پھنگ نے بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں چین کے دورے پر آئے ہوئے متحدہ عرب امارات کی ریاست ،ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد سے ملاقات کی۔

منگل کے روز شی جن پھنگ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات چین کا جامع اسٹریٹجک شراکت داری ہے، اور چین اس کے ساتھ تعلقات کی ترقی کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ دونوں فریقوں کی مشترکہ کوششوں سے دونوں ممالک کے تعلقات صحت مند اور مستحکم رہے ہیں، سیاسی اعتماد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، عملی تعاون مستقل بڑھا ہے، اور ثقافتی تبادلے متنوع اور شاندار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کو مضبوط اور بلند کرنا دونوں فریقوں کا مضبوط اتفاق رائے ہے، جو دونوں ممالک کے عوام کی توقعات کے بھی عین مطابق ہے۔صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ چین متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر کام کرنے، ایک زیادہ مضبوط، پائیدار اور متحرک چین-متحدہ عرب امارات جامع اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرنے کا خواہاں ہے۔ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے مرکزی مفادات اور دلچسپی کے اہم امور میں تعاون جاری رکھنا چاہیے، اعلیٰ سطحی روابط برقرار رکھنے چاہئیں، اور اسٹریٹجک اعتماد کو مضبوط کرنا چاہیے۔چین کے صدر نے کہا کہ دونوں فریقوں کے لیے ترقیاتی حکمت عملیوں میں ہم آہنگی کو بڑھانا، توانائی، سرمایہ کاری، تجارت، ٹیکنالوجی وغیرہ جیسے شعبوں میں صلاحیتوں کو بروئے کار لانا، اور تعلیم ،شہری ہوا بازی اور سیاحت میں تعاون کو گہرا کرنا اور افرادی و ثقافتی تبادلوں اور عوامی رائےکی بنیاد کو مضبوط بنانا چاہیے۔ عالمی تعاون میں اقوام متحدہ، برکس جیسے کثیرالجہتی پلیٹ فارمز پر ہم آہنگی اور تعاون میں اضافہ کرنا چاہیئے اور آپس کے تعلقات کے استحکام کے ذریعے علاقائی و بین الاقوامی غیر یقینی صورتحال کا مقابلہ کرنا چاہیئے، اور مشترکہ طور پر انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو فروغ دینا چاہیے۔دونوں فریقوں نے مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے کی موجودہ صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ شی جن پھنگ نے مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے تحفظ اور فروغ کے لیے چار نکات پیش کیے۔ پہلا، پرامن بقائے باہمی کے اصول پر عمل کرنا۔ مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک وہ پڑوسی ہیں جنہیں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے ان ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی حمایت کی جانی چاہیئے،مشترکہ، جامع، تعاون پر مبنی اور پائیدار سکیورٹی اسٹرکچر کی تعمیر کو فروغ دیا جانا چاہیے، اور پرامن بقائے باہمی کی بنیاد کو مضبوط کیا جانا چاہیے۔ دوسرا، قومی خودمختاری کے اصول پر عمل کرنا جو ہر ملک، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے وجود اور استحکام کی بنیاد ہے اور جس کی خلاف ورزی ناقابل قبول ہے۔ مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا حقیقی معنوں میں احترام کیا جانا چاہیے، اور تمام ممالک کے افراد، تنصیبات اور اداروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ تیسرا، بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کے اصول پر عمل پیرا ہونا۔ بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کے وقار کو برقرار رکھنا ضروری ہے اور دنیا کو جنگل کے قانون کی طرف واپس نہیں جانا چاہیے۔ اقوام متحدہ کی مرکزیت پر مبنی نظام، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں پر مبنی بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کو مضبوطی سے برقرار رکھنا چاہیے۔ چوتھا، ترقی اور سلامتی کی ہم آہنگی پر زور دینا۔ سلامتی ترقی کی بنیاد ہے، اور ترقی سلامتی کی ضمانت ہے۔ تمام فریقوں کو مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک کی ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا اور مثبت توانائی فراہم کرنی چاہیے۔ صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ چین مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک کے ساتھ چینی طرز کی جدیدیت کے مواقع بانٹنے اور علاقائی ترقی اور سلامتی کی بنیاد کو مضبوط کرنے کو تیار ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.