یورپی کونسل کے صدر کوسٹا نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ یوکرین میں دیرپا امن کے حصول کے لیے بحر اوقیانوس کی یکجہتی ضروری ہے۔ کوسٹا نے اسی دن “رضاکار یونین” کے اجلاس میں اس بات پر زور دیا کہ امن کی شرائط پر فیصلے کرنے کیلئے یوکرین کے خودمختار حق کا احترام کیا جانا چاہئے۔ یورپ یوکرین کو سلامتی کی ضمانت فراہم کرنے اور مشترکہ طور پر یوکرین میں منصفانہ اور دیرپا امن کو یقینی بنانے کے لئے امریکہ کی آمادگی کا خیرمقدم کرتا ہے ، اور یورپ اس میں تعاون کرنے کے لئے تیار ہے۔ اگر جنگ بندی کا معاہدہ نہیں ہو پاتا ہے تو یورپی یونین اور امریکہ کو روس پر دباؤ بڑھانا ہوگا۔
اسی روز یورپی یونین، نیٹو اور متعدد یورپی ممالک کے رہنماؤں نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ بھی ٹرمپ اور زیلنسکی سے ملاقات کے لیے 18 اگست کو وائٹ ہاؤس جائیں گے، جن میں یورپی کمیشن کی صدر وان ڈیر لیئن، جرمن چانسلر مرز، فرانسیسی صدر میکرون، فن لینڈ کے صدر اسٹب، اطالوی وزیر اعظم میلونی، برطانوی وزیر اعظم اسٹارمر اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل روٹے شامل ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کی ایک سابقہ رپورٹ کے مطابق 28 فروری کو وائٹ ہاؤس میں امریکہ اور یوکرین کے رہنماؤں کے درمیان شدید جھگڑا ہوا تھا، جس کی بنا پر یورپی رہنماؤں نے زیلنسکی کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا ہے
Trending
- پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023ء میں مجوزہ ترامیم کی منظوری
- پاکستان انڈر 21 ہاکی ٹیم عمان کی سینئر ٹیم کیساتھ ٹیسٹ سیریز کھیلنے مسقط روانہ
- ایران کے حملوں سے ہونے والے امریکی نقصانات کی طویل فہرست سامنے آگئی
- داتا دربار کے اطراف منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی، بھاری مقدار میں چرس اور آئس برآمد
- دنیا کے معمر ترین پروفیشنل فٹبالر کا 4 سال بعد گول
- پنجاب بھر میں 2 ماہ کیلئے دفعہ 144 نافذ، دریاؤں اور ڈیموں میں نہانے پر پابندی
- ابھیشیک شرما زمبابوے کیخلاف بھی بری طرح ناکام
- جی ایس پی پلس رپورٹ ، پاکستان کیلیے پیشرفت اوردرپیش چیلنجز
- چین میں ٹیکس اور فیسوں کی مد میں مجموعی وصولیاں 167 کھرب یوآن تک پہنچ گئیں
- چین اور عالمی برادری کے سامنے جاپان ذمہ دارانہ جوابدہی پیش کرے، چینی سفارت خانہ
Prev Post