News Views Events
Apna Watan

ایران کے حملوں سے ہونے والے امریکی نقصانات کی طویل فہرست سامنے آگئی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکا کے خلاف مبینہ فوجی کارروائیوں کے حوالے سے ایک تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ 15 روزہ جنگ کے دوران امریکی فوجی تنصیبات اور سازوسامان کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا۔

خبر رساں ادارے اے بی این اے 24 کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا کہ ایرانی حملوں کے نتیجے میں خطے میں قائم امریکی اڈوں پر کھڑے 11 لڑاکا طیارے اور ہیلی کاپٹر تباہ ہوئے، جبکہ مجموعی طور پر امریکی فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ترجمان کے مطابق فضائی دفاع اور نگرانی کے نظام بھی حملوں کی زد میں آئے۔ ان کے دعوے کے مطابق متعدد کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، سیٹلائٹ کمیونیکیشن سسٹمز، پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس ریڈارز، فضائی نگرانی کے ریڈار، ارلی وارننگ سسٹمز، طویل فاصلے تک کام کرنے والے ریڈارز اور دیگر دفاعی تنصیبات متاثر یا تباہ ہوئیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض فضائی دفاعی نظام غیر مؤثر ہونے کے باعث ایرانی میزائل اور ڈرون اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی لاجسٹک اور معاونت کے ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا۔ اس میں لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی مرمت کے مراکز، لاجسٹک بیسز، ایندھن ذخیرہ کرنے کے ٹینک، اسلحہ ڈپو، بحری و فضائی اسپیئر پارٹس کے مراکز اور میزائل ذخیرہ کرنے والے بنکرز شامل ہیں۔

پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ آپریشنل انفراسٹرکچر بھی حملوں سے محفوظ نہ رہ سکا۔ ان کے مطابق مختلف ڈرون ہینگرز، ایف-15 طیاروں کے ہینگر، کمانڈ سینٹرز، میزائل لانچنگ پلیٹ فارمز، پیٹریاٹ دفاعی کمپلیکس، انٹیلی جنس مراکز، مصنوعی ذہانت (AI) سے متعلق ایک مرکز، ڈیٹا پروسیسنگ سہولت، ایندھن کی تنصیبات، سگنل کمیونیکیشن مراکز، بحری اثاثے اور طیاروں کی پارکنگ و ٹیکسی ویز کو بھی نقصان پہنچا۔بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ زمین پر موجود متعدد فضائی اثاثے تباہ ہوئے، جن میں لڑاکا طیارے، ہیلی کاپٹر، جاسوسی اور آپریشنل ڈرونز، ایک ایف-15 جنگی طیارہ، ایک پی-8 بحری نگرانی طیارہ، ایک سی-17 ٹرانسپورٹ طیارہ، فضائی ایندھن بردار ٹینکرز، بھاری ہیلی کاپٹرز اور میزائلوں کا ذخیرہ شامل ہے۔بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کا کہنا تھا کہ ایرانی کارروائیوں کے نتیجے میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی ہے، جبکہ امریکی حکام کی جانب سے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا گیا۔

پی این پی

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.