تحریر: اعتصام الحق
3 ستمبر کو بیجنگ میں ہونے والی تاریخی پریڈ کے اس وقت پوری دنیا میں چرچے ہیں ۔مختلف نظریات رکھنے والے اسے مختلف انداز میں دیکھ رہے ہیں ۔ لیکن ضروری یہ ہے کہ اسےاس طرح دیکھا جائے جیسے چین نے دکھایااور سمجھایا ۔
فوجی پریڈ محض عسکری طاقت کا مظاہرہ نہیں تھا بلکہ یہ چین کے تاریخی پس منظر، قومی خوداعتمادی اور موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں ایک علامتی اور سیاسی اہمیت رکھنے والا واقعہ تھا۔
یہ پریڈ دوسری عالمی جنگ اور جاپانی جارحیت کے خلاف چینی عوام کی مزاحمتی جنگ میں دی گئی قربانیوں کی یاد تازہ کرنے کے ساتھ ساتھ اُس جدوجہد کو خراجِ تحسین اور جانیں دینے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقد کی گئی تھی ۔ اس تقریب کے ذریعے چین نے یہ پیغام دیا کہ وہ اپنی تاریخی جڑوں کو فراموش نہیں کرتا اور ان قربانیوں کو آج کی قومی یکجہتی اور مستقبل کی ترقی کے ساتھ جوڑ کر دیکھتا ہے۔
یہ پریڈ اس لحاظ سے بھی اہم تھی کہ چین نے اسے اپنی فوجی جدیدیت اور ٹیکنالوجی کے مظاہرے کے طور پر پیش کیا۔ جدید ہتھیاروں، ڈرون ٹیکنالوجی، ہائپرسونک میزائلوں اور الیکٹرانک وار فیئر کے نظام نے یہ ظاہر کیا کہ چین نہ صرف دفاعی صلاحیت میں خودکفیل ہے بلکہ اب مستقبل کی جنگی ضروریات کو بھی مدنظر رکھ رہا ہے۔
پریڈ کی ایک اور نمایاں خصوصیت غیر ملکی رہنماؤں اور وفود کی شمولیت تھی۔ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن، شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن پاکستان کے وزیر اعظم میاں شہباز شریف سمیت 26 ممالک کے سربراہان کی موجودگی نے اس تقریب کو محض ایک چینی تقریب تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ایک بین الاقوامی تقریب بنایا ۔ یہ شرکت اس بات کی عکاسی ہے کہ چین اپنے تاریخی واقعات کو عالمی تناظر میں پیش کرنا چاہتا ہے اور اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ان مواقعوں کو استعمال کرتا ہے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ عالمی رہنماؤں کی شرکت چین کی سفارتی کامیابی ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے ممالک چین کی علامتی تقریبات میں اپنی موجودگی کو اہم سمجھتے ہیں۔
پریڈ کے بعد عالمی میڈیا نے اسے جس انداز میں پیش کیا اس کا جواب بھی چینی وزارت خارجہ کی جانب سے سامنے آیا ۔کئی عالمی اخبارات نے عالمی رہنماوں کی موجودگی میں اسے کسی نئے بلاک سے تعبیر کیا اور کئی دیگر رہنماوں نے اسے کسی نئے محاذ کے طور پر بیان کیا ،لیکن میرا خیال ہے کہ اگر کسی چینی میڈیا نے اسے اس انداز میں دکھانے کی کوشش کی ہوتی یا حکومت کی جانب سے ایسا پیغام دیا گیا ہوتا تو اسے اس انداز میں دیکھے جانے کا حق تھا ۔اس کے بر عکس چینی میڈیا نے اس پریڈ کو صرف اپنی تاریخ سے جوڑتے ہوئے 35 ملین افراد کی جانوں ،شہروں کے اجڑنے ،بستیوں کے برباد ہونے اور مالی نقصانات کے ساتھ ساتھ اس نسل سے آج کی نسل تک منتقل ہونے والے ذہنی نقوش کے طور پر دکھایا اور شائد یہی اس کی اصل روح تھی ۔
ایک اہم رویہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ چین کے مزاج میں تکبر ،تعصب اور خود کو بڑا ماننے والا عنصر نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ قو م کافی کچھ حاصل کرنے اور دنیا میں اپنے آپ کو منوانے کے بعد بھی آج تک دوسرے ممالک کی طرح دھونس دھمکیوں اور اپنی بڑائی بیان کرتی نظر نہیں آتی بلکہ مشترکہ مستقبل کی بات کرتی ہے۔دنیا کے جدید ترین اسلحے کی نمائش کے وقت بھی چین کے صدر نے اپنے خطاب میں امن ،بھائی چارے ،تعاون اور مشترکہ مستقبل کی بات کی جو چین کی ہزارو ں سال پر محیط تہذیبی روایات کا ثبوت تھی کہ اس قوم نے آج تک کسی دوسرے ملک پر کوئی جارحانہ اقدام نہیں کیا ۔
موجودہ عالمی حالات میں، جہاں طاقت کے توازن میں مسلسل تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں، چین کی یہ پریڈ ایک اہم علامتی قدم ہے۔ ۳ ستمبر کی یہ پریڈ نہ صرف چین کی تاریخی وراثت کا تسلسل تھی بلکہ ایک سفارتی اور عسکری پیغام بھی تھی۔ چین نے داخلی طور پر عوامی یکجہتی کو تقویت دی، عالمی سطح پر چین کی شراکت داری کو اجاگر کیا اور یہ واضح کیا کہ چین اپنی تاریخ اور حال دونوں کو مستقبل کی تعمیر کے لیے استعمال کرنے کا خواہاں ہے۔