اسلام آباد:پاکستان مسلم لیگ ق کے سربراہ و سابق وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین کو پاکستان باڈی بلڈنگ فیڈریشن کا چیئرمین منتخب کرلیا گیا۔
گزشتہ روز پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم کی رہائش گاہ لاہور میں پاکستان باڈی بلڈنگ فیڈریشن کے صدر محمد طارق حسن اور سیکرٹری سہیل انور نے ملاقات کی۔
چوہدری شجاعت حسین نے ایشین باڈی بلڈنگ چیمپئن شپ میں پہلی بار پانچ گولڈ میڈل لانے پر طارق حسن اور سہیل انور کو مبارکباد دی۔
طارق حسن نے کہا کہ ملک اور قوم کے لئے چوہدری شجاعت حسین کی خدمات لازوال ہیں جو فیڈریشن اور پاکستان کے باڈی بلڈرز کے لئے سود مند ثابت ہوسکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں پاکستان کے ایتھلیٹ مزید میڈل لائیں اور ان کے مالی معاملات بھی بہتر ہو سکیں جس پر سابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت نے رضا مندی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ قومی کھلاڑی قومی ہیروز ہوتے ہیں پاکستان ہمارا ملک ہے اور ہمیں پاکستانی ہونے پر فخر ہے۔
پاکستان باڈی بلڈنگ فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری سہیل انور کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم کے چیئرمین بننے سے ملک میں باڈی بلڈنگ کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ ماہ لاہور میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا جائے گا، یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم پاکستان باڈی بلڈنگ فیڈریشن کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔
Trending
- مالی سال 26-2025ء میں نجی شعبے کو دیے قرض میں 15فیصد اضافہ ہوا: خرم شہزاد
- کراچی میں گیس کی بو پھیلنے کی شکایات پر سوئی سدرن کمپنی کا بیان سامنے آگیا
- نیلوفر بختیار چوہدری شجاعت حسین کی سینئر ایڈوائزر مقرر، فرخ خان اور فوزیہ ناز کی مبارکباد
- آزاد کشمیر کے انتخابی حلقوں میں مبینہ بے ضابطگیاں، پی پی کا الیکشن کمیشن سے فوری مداخلت کا مطالبہ
- روئی کی قیمتوں میں تیزی، فی من 500 روپے اضافہ
- بلاول نے آزاد کشمیر انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بھی دھاندلی کا الزام عائد کردیا
- لاہور؛ نشے کے عادی شخص کا بیوی اور 3 بیٹیوں پر چھری سے حملہ، ملزم گرفتار
- آزاد کشمیر الیکشن الٹرا فارم 47 والا نظر آ رہا ہے، ندیم افضل چن
- کراچی بوندا باندی اور ہلکی بارش سے موسم خوشگوار، مزید بارشوں کی پیشگوئی
- پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے، پی ڈی ایم اے
اپناوطن ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے پاکستان بھر میں اور اوورسیز پاکستانیوں کے نیوزپلیٹ فارم کے بانی مدیر اعلیٰ نعیم کا شمار کہنہ مشق اور منجھے ہوئے مایہ ناز صحافیوں میں ہوتا ہے۔