امریکی بحری جہازوں سے خصوصی بندرگاہ فیس وصول کی جائے گی، چینی وزارت ٹرانسپورٹ
بیجنگ : 17 اپریل 2025 کو امریکی دفتر تجارت نے چین کے بحری، لاجسٹکس اور شپ بلڈنگ انڈسٹری کے خلاف 301 تفتیشی اقدامات کا اعلان کیا تھا۔ 14 اکتوبر 2025 سےامریکہ چینی انٹرپرائزز کی ملکیت یا انتظام میں موجود بحری جہازوں، چینی پرچم والے بحری جہازوں اور چین میں تیار کردہ بحری جہازوں پر بندرگاہ کی سروسز فیس وصول کرے گا۔ یہ اقدام بین الاقوامی تجارتی اصولوں اور چین اور امریکہ کے بحری شپنگ معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے اور چین اور امریکہ کے درمیان بحری تجارت کو شدید نقصان پہنچائے گا۔چین کی بین الاقوامی شپنگ ریگولیشن، متعلقہ قوانین اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی بنیاد پر چینی سٹیٹ کونسل کی منظوری کے بعد، 14 اکتوبر 2025سے چین امریکی انٹرپرائزز، اداروں اور افراد کی ملکیت یا انتظام میں موجود بحری جہازوں، یا امریکی انٹرپرائزز، اداروں اور افراد کےبلا واسطہ یا بالواسطہ 25 فیصد یا اس سے زیادہ حصص (ووٹنگ حقوق، بورڈ کی نشست) رکھنے والی کمپنیوں کی ملکیت یا انتظام میں موجود بحری جہازوں، امریکی پرچم والے بحری جہازوں اور امریکہ میں تیار کردہ بحری جہازوں سے خصوصی بندرگاہ فیس وصول کرے گا۔ یہ فیس متعلقہ بندرگاہ کے مقام پر موجود بحری حکام کے ذریعے وصول کی جائے گی۔
Trending
- پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، 5 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی
- پاکستان کی سفارتی کامیابی پر سمندر پار پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند
- ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی میں امتحانی مراکز کی تبدیلی اور بدعنوانی پر نوٹس، انکوائری کمیٹی قائم
- کراچی؛ باڑے میں آتشزدگی کے دوران لاکھوں روپے مالیت کی 8 بھینسیں جھلس کر ہلاک
- اسحاق ڈار کے سعودی اور مصری ہم منصب سے رابطے ، اسلام آباد مذاکرات پر گفتگو
- ٹرمپ اور ایران کی دھمکیوں کے باوجود پاکستانی جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کرلی
- پی ایس ایل 11: کراچی کنگز کو شکست، حیدرآباد کنگز مین کی ایونٹ میں پہلی فتح
- ہارورڈ یونیورسٹی میں پاکستان کانفرنس، وطن عزیز کو کلیدی ملک قرار دے دیا گیا
- کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے غیرملکی پلیئرز کی انجوائےمنٹ، پیڈل اور گالف سرگرمیوں میں شرکت
- پاکستان میں ایران اور امریکا کے وفود کی ملاقات فیصلہ کن لمحہ ہے، شاہد آفریدی
اپناوطن ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے پاکستان بھر میں اور اوورسیز پاکستانیوں کے نیوزپلیٹ فارم کے بانی مدیر اعلیٰ نعیم اکبر کا شمار کہنہ مشق اور منجھے ہوئے مایہ ناز صحافیوں میں ہوتا ہے۔