بولی ووڈ کی مشہور اداکارہ ریکھا ہمیشہ سے ہندی سنیما کی کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی ہیں۔ ان کا نام ہی کسی فلم کو ہٹ بنانے کے لیے کافی ہوتا تھا۔ لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ اپنے مصروف شیڈول کی وجہ سے ایک بڑی فلم سے محروم ہوگئیں اس موقع کا فائدہ جیتندر کی قریبی دوست جیا پردہ نے اٹھایا۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق سال 1985 میں جیتندر کی فلم ”سنجوگ“ ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم میں ابتدائی طور پر مرکزی کردار ریکھا اور جیتندر کے لیے فائنل کیے گئے تھے۔ دونوں کی جوڑی اُس وقت شائقین میں بے حد مقبول تھی اور ان کے کئی پراجیکٹس سپرہٹ ثابت ہو چکے تھے۔
ریکھا اس دور کی سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی ہیروئنوں میں شمار ہوتی تھیں۔ ان کے پاس فلموں کی لائن لگی رہتی تھی، سخت مصروف شیڈول کی وجہ سے وہ اپنی ڈیٹس فائنل نہیں کر پائیں۔ نتیجتاً، وہ اس فلم سے باہر ہو گئیں۔
اس کے بعد، فلم کے میکرز نے یہ موقع جیا پردہ کو دے دیا۔ جیا پردہ نے فلم سنجوگ میں ایک ماں اور ایک بیٹی کے روپ میں ڈبل رول اتنی خوبی سے ادا کیا کہ فلم بینوں کو ریکھا کی کمی محسوس نہیں ہوئی۔ ان کی پرفارمنس نے ناظرین کے دل جیت لیے اور فلم باکس آفس پر کامیاب ثابت ہوئی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جیا پردہ اور جیتندر اس سے قبل بھی کئی ہٹ فلموں میں ایک ساتھ کام کر چکے تھے۔ رپورٹس کے مطابق، دونوں نے تقریباً 24 فلموں میں ایک ساتھ کام کیا، جن میں سے 18 فلمیں سپرہٹ ثابت ہوئیں۔ ان کی آن اسکرین کیمسٹری اور دوستی ناظرین کو بے حد پسند آتی تھی۔
اگرچہ ریکھا کے فلم سے ڈراپ ہونے کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی، لیکن فلمی حلقوں میں یہ بات عام ہے کہ جیا پردہ کو یہ موقع جیتندر کی سفارش پر ملا۔
دوسری جانب، ریکھا اور جیتندر کی جوڑی بھی فلمی دنیا کی مقبول جوڑیوں میں شمار ہوتی تھی۔ دونوں نے متعدد رومانٹک اور فیملی ڈرامہ فلموں میں ایک ساتھ مرکزی کردار ادا کیے اور اپنی بہترین اداکاری سے مداحوں کے دلوں پر راج کیا۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ جہاں ریکھا کے ہاتھ سے ایک کامیاب فلم نکل گئی، وہیں جیا پردہ کے کیریئر میں سنجوگ نے ایک نیا موڑ پیدا کیا اور بالی ووڈ میں ان کا مقام مزید مستحکم کر دیا۔
2004 میں سیمی گریوال کے ساتھ ایک انٹرویو میں ریکھا نے امیتابھ بچن سے اپنی محبت کا اعتراف کیا تھا لیکن یہ بھی کہا تھا کبھی بات شادی کی پیشکش تک نہیں پہنچ سکی۔
بہرحال ریکھا کی رومانوی زندگی کی کوئی بحث امیتابھ بچن کے نام کے بغیر ختم نہیں ہوتی۔ انہوں نے ’مقدر کا سکندر‘، ’مسٹر۔ نٹور لال‘، ’رام بلرام‘ اور ’سہاگ‘ جیسی فلمیں دیں۔
فلم ’سلسلہ‘ ان کی ایسی فلم کہی جا سکتی ہے جو یوں لگتا ہے کہ ان کی زندگی پر مبنی ہو جس میں حقیقت اور فسانے کی لکیر دھندلی ہو گئی تھی کیونکہ اس میں امیتابھ کی حقیقی بیوی جیا بچن نے ان کی بیوی کا کردار ادا کیا تھا اور ریکھا نے ان کی محبت کا۔ سامعین کو یہ فلم بہت حقیقی لگی۔
بعض لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ دونوں نے خفیہ شادی کر رکھی ہے کیونکہ اکثر ریکھا مانگ میں سندور کے ساتھ نظر آتی ہیں جو کہ کسی سہاگن کی علامت ہے۔
عمران خان کے ساتھ رومانس
امیتابھ کے علاوہ ان کے پاکستان کے معروف کرکٹر عمران خان کے ساتھ رومانس کا بھی ذکر ملتا ہے۔ حال ہی میں سٹار رپورٹ کی ایک سٹوری سوشل میڈیا پر گردش کرتی نظر آئی جس میں سوالیہ نشان کے ساتھ لکھا گیا کہ ’کیا ریکھا اور عمران شادی کرنے والے ہیں؟‘
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق سٹار رپورٹ کی کہانی سنہ 1985 کی ہے جب عمران خان اپنے کیریئر کے شباب پر تھے اور انڈیا میں ان کے چاہنے والوں کی بے شمار تعداد تھی اور معروف کرکٹر گواسکر نے انہیں ’لاکھوں لڑکیوں کے دل کی دھڑکن‘ کہا تھا۔
رپورٹ کے مطابق وہ مختلف تقاریب میں ایک ساتھ دیکھے جاتے تھے اور ایسا لگتا تھا کہ انہوں نے اس شہر کو ’محبت کے سرخ رنگ میں رنگ دیا ہے۔‘
اس افواہ کو مزید اس بات نے تقویت دی کہ ریکھا کی والدہ پشپاوللی نے عمران خان کے لیے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا کیونکہ انہیں یقین ہو چلا تھا کہ عمران خان ان کی بیٹی کے لیے انتہائی موزوں انتخاب ہیں۔
اسی رپورٹ میں یہ تک کہا گیا ہے کہ ریکھا کی والدہ ان دونوں کی جوڑی کے بارے میں اس قدر سنجیدہ تھیں کہ وہ دہلی میں ایک نجومی کے پاس یہ جاننے کے لیے پہنچ گئیں کہ کیا عمران خان ان کی بیٹی کے لیے مناسب دولہا ہوں گے۔
نجومی نے کیا جواب دیا یہ تو کسی کو معلوم نہ ہو سکا لیکن ریکھا کی والدہ کے لیے عمران خان ان کے گھر کا ایک خوش آئند حصہ تھے۔
ریکھا اور عمران خان کے بارے میں کہا گیا کہ وہ ساحل سمندر پر ایک ساتھ دیکھے گئے۔ اس خبر نے دوآتشے کا کام کیا اور لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ دونوں میں گہری محبت ہے۔
بہر حال ریکھا کی ماں کا یہ خواب کھبی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا اور دونوں نے اپنی اپنی راہیں لیں۔
ان کے علاوہ ادکار ونود مہرا کے ساتھ ریکھا کے رشتے کی خبریں بھی گردش کرتی رہی ہیں اور انہیں ان کا خفیہ شوہر تک کہا گیا۔
دونوں کئی فلموں میں ایک ساتھ آئے اور اس کے ساتھ دونوں نے ایک ناقابل تردید تعلقات کا اشتراک کیا، اور افواہوں نے یہ ہوا دی کہ انہوں نے کلکتہ میں خفیہ طور پر شادی کر لی۔
اس بابت ایک کہانی کا اکثر حوالہ دیا جاتا ہے کہ جب ونود مہرہ ریکھا کو شادی کے بعد گھر لے کر آئے تو ونود مہرا کی ماں نے انہیں سختی سے مسترد کر دیا۔ یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ’ریکھا کو گھر میں داخل ہونے سے بھی منع‘ کر دیا اور مبینہ طور پر چپل پھینکی اور گالیاں دیں۔ ریکھا روتی ہوئی چلی گئیں اور پھر واپس نہیں آئیں۔
برسوں بعد، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی کبھی ونود سے شادی ہوئی تھی، تو ریکھا نے اپنے چلبلے مسکراتے ہوئے انداز میں کہا: ’بالکل نہیں! کوئی شادی نہیں ہوئی، کچھ بھی نہیں، ہم صرف اچھے دوست تھے۔‘
بہر حال ریکھا نے شادی کی اور وہ بھی ایک بزنس مین مکیش اگروال سے۔ فلم مصنف یاسر عثمان نے ’ریکھا: دی ان ٹولڈ سٹوری‘ نامی کتاب کا آغاز اسی شادی سے کیا اور پھر بن بیاہی ماں کی کوکھ سے جنم لینے والی ریکھا کی زندگی پر نظر ڈالی ہے۔
1990 میں، ریکھا نے دہلی کے ایک صنعت کار مکیش اگروال سے شادی کر کے سب کو چونکا دیا۔ یہ ایک عجیب شادی تھی۔ وہ ایک دوسرے کو بمشکل ایک ماہ سے جانتے تھے۔
بہر حال ان کی شادی شروع سے ہی پریشان کن تھی۔ مکیش مبینہ طور پر ذہنی صحت کے مسائل سے دو چار تھے اور وہ ریکھا کے سٹارڈم کا مقابلہ نہیں کر سکے۔ صرف سات ماہ بعد انہوں نے خودکشی کر لی اور ایک نوٹ چھوڑا جس میں لکھا تھا ’کسی کو مورد الزام نہ ٹھہرائیں۔‘
میڈیا، اس وقت ریکھا کے خلاف کھڑی نظر آئی اور انہیں ’آدم خور‘ جیسے اور اس سے بھی بدتر القاب سے نوازا۔ ریکھا، ہمیشہ کی طرح اس آگ سے بھی گزر گئیں۔ انہوں نے اپنی دوبارہ تعمیر کی اور دوبارہ پہلے سے زیادہ مضبوط، زیادہ خوبصورت، اور زیادہ پراسرار بن کر ابھریں۔
ریکھا کی پہلی فلم اگرچہ ’ساون بھادوں‘ کہی جاتی ہے لیکن انہوں نے ’انجانا سفر‘ سے اپنے بالی وڈ کیریئر کی شروعات کی تھی۔ یہ فلم ایک بوسے کے سین کی وجہ سے متنازع ہو گئی اور کئی دیگر وجوہات کی بنا پر دس سال بعد دو شکاری کے نام سے ریلیز ہوئی۔
ریکھا نے ایک بار کہا تھا: ’میں نے اپنی زندگی کے لیے کبھی کوئی منصوبہ نہیں بنایا۔ میں صرف زندگی کے بہاؤ کے ساتھ چلتی گئی اور جب بھی ہو سکا محبت دینے کی کوشش کی۔ میں اب بھی ایسا ہی کر رہی ہوں۔‘
ریکھا کی ادکاری کو ’خوبصورت‘، ’امراؤ جان‘ اور دیگر فلموں میں دیکھا جا سکتا ہے اور فلم ’مقدر کا سکندر‘ میں ان کی یکطرفہ سلگتی محبت کے جذبے کو دیکھا جا سکتا ہے۔
انہیں بہترین اداکاری کے لیے فلم فیئر سے لے کر آئیفا اور نیشنل ایوارڈز بھی ملے۔ انہیں انڈیا کا گرانقدر شہری ایوارڈ پدم بھوشن بھی دیا گیا اور وہ راجیہ سبھا میں رکن پارلیمان بھی رہیں جہاں دوسرے کئی رکن پارلمیان انہیں مڑ مڑ کے دیکھے بغیر نہ رہتے تھے۔
یاسر عثمان بھی ریکھا کی ان کہی کہانی میں بہت سی ان کہی داستانیں چھوڑ آئے ہیں، شاید کبھی ریکھا ہی ان سے پردہ ہٹائیں۔
Trending
- ابھی کافی میچز ہیں خامیاں دور کر کے کامیابی کی کوشش کریں گے، اسامہ میر
- ایران کے خلاف جنگ پر 11ارب ڈالر سے زائد خرچ ہوچکے ہیں،اسرائیل کا اعتراف
- پی ایس ایل11؛ 20 میچز مکمل، پوائنٹس ٹیبل پر کونسی ٹیم کس پوزیشن پر ہے؟
- ایران امریکا ملاقات بہت اچھی رہی، بہت سے نکات پر اتفاق ہوا، ڈونلڈ ٹرمپ
- کوشل مینڈس پی ایس ایل چھوڑ کر آئی پی ایل جانے کے سوال پر خاموش رہ گئے
- لاہور قلندرز کا پرویز حسین ایمون کے متبادل کے طور پر چارتھ اسالنکا کو شامل کرنے کا اعلان
- چوہدری شجاعت حسین کی سیاسی خدمات قابلِ قدر ہیں، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ
- گلین میکسویل نے بھی حیدرآباد کنگز مین کے اسکواڈ کو جوائن کرلیا
- نامور بھارتی گلوکارہ آشا بھوسلے دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئیں
- بنگلا دیش کا نیوزی لینڈ کیخلاف ون ڈے سیریز کے پہلے دو میچز کیلیے اسکواڈ کا اعلان
اپناوطن ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے پاکستان بھر میں اور اوورسیز پاکستانیوں کے نیوزپلیٹ فارم کے بانی مدیر اعلیٰ نعیم اکبر کا شمار کہنہ مشق اور منجھے ہوئے مایہ ناز صحافیوں میں ہوتا ہے۔