ٹوکیو :جاپان کے سابق وزیر اعظم مورایاما تومیچی اویتا شہر کے ایک اسپتال میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 101 سال تھی۔ مورایاما تومیچی 1994 میں جاپان کے وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے ۔ مئی 1995 میں، مورا یاما نے چین کا دورہ کیا تھا اور وہ پہلے جاپانی وزیر اعظم بنے جنہوں نے لو گوو چھیاؤ بل اور جاپانی جارحیت کے خلاف چینی عوام کی مزاحمتی جنگ کی یادگار میوزیم کا دورہ کیا۔ جاپان کے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر، مورا یاما نے کابینہ کے فیصلے کی شکل میں مشہور مورا یاما تقریر کی تھی ، جس میں انہوں نے تسلیم کیا تھا کہ جاپان کے نوآبادیاتی قبضے اور جارحیت نے بہت سے ممالک، خاص طور پر ایشیائی ممالک کے عوام کو بہت نقصان اور تکلیف پہنچائی ۔اس تقریر میں اس حوالے سے ان کا الفاظ یہ بھی تھے کہ ‘اس کے لیے میں ایک بار پھر گہری ندامت اور مخلص معذرت کا اظہار کرتا ہوں ۔ یہ پہلا موقع تھا جب جاپان کے وزیر اعظم نے 15 اگست 1945 کو غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کی یاد میں ہونے والی تقریبات کے دن جنگ سے متاثرہ ممالک سے عوامی طور پر معذرت کی تھی۔
Trending
- رضا اللہ کا تیز رفتاری سے بد ترین کارکردگی تک کا سفر
- ’تمہیں سمجھنا مشکل ہے‘، سیف علی خان نے اہلیہ کرینہ کپور کو ایسا کیوں کہا؟
- صائم ایوب کو سی پی ایل سے بلا کر کھلانا ٹیسٹ کرکٹ کی توہین ہے، ناصر حسین
- برکس تعاون میکانزم کو مسلسل فروغ مل رہا ہے، چینی صدر
- ’وہ مجھے بیوی نہیں، کچھ اور سمجھتے تھے‘، ایلون مسک کی سابقہ اہلیہ کے چونکا دینے والے انکشافات
- مٹی کا تیل 17روپے 35 پیسے فی لیٹر مہنگا
- چین کی بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی تعاون مضبوط بنانے کی اپیل
- مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے حوالے سے چین کا کردار قابل تحسین ہے ، سابق وزیر اعظم اردن
- 26ویں چائنا انٹرنیشنل فیئر فار انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ میں چین میں سرمایہ کاری کے بڑھتے مواقع نمایاں
- امریکا فوری طور پر چین کے خلاف جاسوسی سرگرمیاں بند کرے، چینی وزارت تجارت