بیجنگ :رپورٹس کے مطابق، جاپانی حزبِ اختلاف کے سربراہ نے سانائے تاکائیچی کے حزبِ اختلاف کی بحث میں دیے گئے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سانائے تاکائیچی مزید مخصوص مثالوں کا تذکرہ نہیں کریں گی ، دراصل انہوں نے اپنے گزشتہ بیانات واپس لے لیے ہیں۔اس حوالے سے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیا کھون نے یومیہ نیوز کانفرنس میں کہا کہ “مزید ذکر نہ کرنا” اور “غلط بیانات واپس لینا” دو مختلف چیزیں ہیں۔ جاپانی فریق کی خواہش ہے کہ “مزید ذکر نہ کرنا” کے ذریعے سانائے تاکائیچی کے سنگین غلط بیانات کو نرم یا چھپایا جائے، یہ خود سرانہ بیانیہ ہے اور چین اسے بالکل قبول نہیں کرے گا۔ امریکی اور جاپانی رہنماؤں کے درمیان بات چیت سے متعلق سوال کے جواب میں گو جیا کھون نے کہا کہ امریکی اور جاپانی رہنماؤں کی بات چیت امریکہ اور جاپان کے درمیان ہے، چین اس پر تبصرہ نہیں کرتا۔ تائیوان کے امور چین کا داخلی معاملہ ہے اور کسی بھی بیرونی قوت کو مداخلت کی اجازت نہیں ہے۔
Trending
- چین برکس تعاون کو مستحکم مستقبل کی جانب لے جائے گا، بین الاقوامی شخصیات
- ملک میں ایک تولہ سونے کی قیمت 400 روپے بڑھ گئی
- رضا اللہ کا تیز رفتاری سے بد ترین کارکردگی تک کا سفر
- ’تمہیں سمجھنا مشکل ہے‘، سیف علی خان نے اہلیہ کرینہ کپور کو ایسا کیوں کہا؟
- صائم ایوب کو سی پی ایل سے بلا کر کھلانا ٹیسٹ کرکٹ کی توہین ہے، ناصر حسین
- برکس تعاون میکانزم کو مسلسل فروغ مل رہا ہے، چینی صدر
- ’وہ مجھے بیوی نہیں، کچھ اور سمجھتے تھے‘، ایلون مسک کی سابقہ اہلیہ کے چونکا دینے والے انکشافات
- مٹی کا تیل 17روپے 35 پیسے فی لیٹر مہنگا
- چین کی بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی تعاون مضبوط بنانے کی اپیل
- مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے حوالے سے چین کا کردار قابل تحسین ہے ، سابق وزیر اعظم اردن