ٹوکیو:سینکڑوں جاپانی شہریوں نے وزیر اعظم سانائے تاکائیچی کی سرکاری رہائش گاہ کے سامنے ایک احتجاجی ریلی نکالی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ سانائے تاکائیچی اپنے غلط ریمارکس کو فوری طور پر واپس لیں۔جمعہ کے روز مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایشیا پیسیفک جنگ کے دوران جاپان نے ایشیائی ممالک کو بھاری نقصان پہنچایا تھا، اسی پس منظر میں جاپان کے آئین کی نہایت اہم شق، آرٹیکل 9، وضع کی گئی تھی۔ چین کے خلاف سانائے تاکائیچی کے اشتعال انگیز ریمارکس ناقابل قبول ہیں۔ جاپان کے پاس امن پسند آئین موجود ہے، اس لیے ملک کو ہرگز جنگ کی راہ پر نہیں چلنا چاہیے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ سانائے تاکائیچی اپنے بیانات واپس لیں اور معافی مانگ کر استعفیٰ دیں۔اسی روز روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان، ماریہ زاخارووا نے کہا کہ جاپانی حکومت کے جنگ پسند بیانات اور اقدامات نے نہ صرف علاقائی کشیدگی میں اضافہ کیا ہے بلکہ جاپانی آئین کی خلاف ورزی بھی کی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جاپان کے آئین کے آرٹیکل 9 میں واضح طور پر درج ہے کہ “جاپان ہمیشہ کے لیے جنگ چھیڑنے، طاقت کے استعمال کی دھمکی دینے یا بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے طاقت استعمال کرنے سے دستبردار رہتا ہے”۔ انہوں نے کہا کہ روس تائیوان کو چین کا اٹوٹ حصہ تسلیم کرتا ہے اور کسی بھی شکل میں تائیوان کی علیحدگی کی مخالفت کرتا ہے۔ روس کا مستقل موقف ہے کہ تائیوان کا مسئلہ چین کا اندرونی معاملہ ہے اور اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع، چین کا جائز حق ہے۔
Trending
- جہاز کے ذریعے مچھر جرمنی پہنچ گیا، کاٹنے سے ایک ایئرپورٹ ملازم ہلاک
- نیپال میں ہلاکت خیز سیلاب کی وجہ زلزلہ نہیں بلکہ کچھ اور تھا: امریکی ادارے نے بتادیا
- جیسوال اور ویبھاؤ کو معمولی سزا دیے جانے پر سنجے منجریکر برہم
- ملک میں سونے کی قیمتیں گراوٹ کا شکار
- نیپال میں بپھرا ہوا سیلاب سیکڑوں سیاحوں کو بہا لے گیا، 300 سے زائد ہلاکتیں، سیکڑوں لاپتا
- شمالی آئرلینڈ فٹبال ایسوسی ایشن کا انفینٹینو کی مخالفت کا اعلان
- کتاب شی جن پھنگ کی ثقافت کے بارے میں منتخب تحریریں کی جلد اول اور دوم شائع
- چینی وزیراعظم ہنگامی امدادی کارروائیوں کی رہنمائی کے لیے شی زانگ پہنچ گئے
- چین، 13ویں بیجنگ شیانگ شان فورم کی میزبانی کے لیے تیار
- چین نے امریکی حکومت کی جانب سے چینی مصنوعات پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کے منصوبے کی مخالفت کر دی