ٹوکیو:جاپان میں حزب اختلاف کی کئی اعلیٰ سطح جماعتوں کے رہنماؤں نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں حکمراں اتحاد لبرل ڈیموکریٹک پارٹی اور جاپان انوویشن پارٹی کی جانب سے پانچ قسم کے ہتھیاروں کی برآمدات پر پابندیاں اٹھانے کے منصوبے کی مذمت کی۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ اقدام جاپان کو ایک خطرناک راستے پر لے جائے گا۔ سابق جاپانی وزیر خارجہ کاتسویا اوکاڈا نے کہا کہ ہتھیاروں کی پانچ اقسام کی برآمدات پر پابندیاں اٹھانے کا مطلب مہلک ہتھیاروں کی برآمد کی اجازت دینا ہے، جس سے جاپان کے دیرینہ اصول بدل جائیں گے۔ جاپان کے دفاعی بجٹ میں مسلسل اضافے کے ساتھ، ایک فوجی صنعتی کمپلکس کی تشکیل کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ جاپانی کمیونسٹ پارٹی کی پالیسی کمیٹی کے چیئرمین تاکو یامازو نے کہا کہ سانائے تاکائیچی انتظامیہ کی جانب سے فوج کو اقتصادی ستون کے طور پر استعمال کرنا اور ہتھیاروں کی برآمد پر پابندی کو مکمل طور پر اٹھانے کا عمل جاپان کے ایک عسکری قوم میں ڈھلنے کی جانب پیش قدمی کا اعلان کرنے کے مترادف ہے۔ جاپان کو ہتھیاروں کی فراہمی کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے اور اسلحے کے لین دین سے منافع کمانے کے بجائے ایک “پرامن قوم” کے طور پر اپنی اصل ساکھ پر واپس آنا چاہیے۔ یاد رہے کہ 15 دسمبر کو، جاپان کے حکمراں اتحاد لبرل ڈیموکریٹک پارٹی اور جاپان انوویشن پارٹی نے ایک میٹنگ منعقد کی، جس میں “دفاعی سازوسامان کی منتقلی کے تین اصولوں” کے اطلاق کی گائیڈ لائن میں ترمیم کرنے اور پانچ قسم کے ہتھیاروں کی برآمدات پر پابندیاں اٹھانے پر اتفاق کیا گیا۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وہ آئندہ سال فروری میں کابینہ کو متعلقہ تحریکیں پیش کریں گے۔
Trending
- چین برکس تعاون کو مستحکم مستقبل کی جانب لے جائے گا، بین الاقوامی شخصیات
- ملک میں ایک تولہ سونے کی قیمت 400 روپے بڑھ گئی
- رضا اللہ کا تیز رفتاری سے بد ترین کارکردگی تک کا سفر
- ’تمہیں سمجھنا مشکل ہے‘، سیف علی خان نے اہلیہ کرینہ کپور کو ایسا کیوں کہا؟
- صائم ایوب کو سی پی ایل سے بلا کر کھلانا ٹیسٹ کرکٹ کی توہین ہے، ناصر حسین
- برکس تعاون میکانزم کو مسلسل فروغ مل رہا ہے، چینی صدر
- ’وہ مجھے بیوی نہیں، کچھ اور سمجھتے تھے‘، ایلون مسک کی سابقہ اہلیہ کے چونکا دینے والے انکشافات
- مٹی کا تیل 17روپے 35 پیسے فی لیٹر مہنگا
- چین کی بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی تعاون مضبوط بنانے کی اپیل
- مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے حوالے سے چین کا کردار قابل تحسین ہے ، سابق وزیر اعظم اردن