اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران اور صدر مسلم لیگ (ن)خیبر پختونخوا انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ پاکستان اور کشمیر دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں، مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کی وجہ ماضی میں قائد نواز شریف اور ان کی خدمت کا سفر ہے، چوہدری عبدالرزاق اور ان کی ٹیم کی شمولیت کے بعد سماہنی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) ایک ناقابل تسخیر قوت بن گئی ، جب بھارت نے بزدلانہ حملہ کیا تو کشمیر کا جذبہ اور ولولہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی، بھارت یہ جذبہ اور ولولہ کہاں سے لائے گا۔
جمعرات کو یہاں مسلم لیگ (ن )آزاد جموں و کشمیر کی شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین سے آئے ہوئے مہمانوں کو اپنی، قائد میاں محمد نوازشریف، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور پوری جماعت کی طرف سے ویلکم اور مبارکباد پیش کرتا ہوں، میں آزاد کشمیر کی قیادت کو بھی بہتریں ایونٹ منعقد کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل باغ سے سردار میر اکبر، راجہ ثاقب مجید سمیت آج چوتھی شمولیت کی تقریب منعقد کی گئی ہے، آزاد کشمیر میں ریکارڈ تعمیر و ترقی راجہ فاروق حیدر اور مسلم لیگ (ن )کے دور میں ہوئی، لاہور میں نواز شریف نے خود کہا کہ ڈیمانڈ آنے سے پہلے ان کو این ایف سی ایوارڈ میں شامل کیا جائے، کشمیر میں اگر لوگ تعمیر و ترقی چاہتے ہیں تو ماضی آپ کے سامنے ہے، آپ کو مسلم لیگ (ن )کے ساتھ دینا ہو گا۔ امیر مقام نے کہا کہ پہلے مجھے کشمیر کا کچھ پتہ نہیں تھا ،اب میں کشمیر کی ٹیم کو اپنا حصہ سمجھتا ہوں، کشمیر کی پاکستان اور افواج پاکستان کے ساتھ محبت دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے، راجہ فاروق حیدر نے جس دلیری کے ساتھ پاکستان کے ساتھ محبت کا اظہار کیا اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی قیادت اور بروقت فیصلوں کی بدولت ہمیں کامیابی ملی ، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سربراہی میں ہماری پوری افواج نے ایک تاریخ رقم کی، تینوں افواج کے باعث پاکستان کے عزت و وقار بلند ہوا اور دنیا میں پذیرائی ملی، کشمیر میں اس بات کی خوشی تھی کہ ہم لڑیں اور غازی بن جائیں یا شہید، بھارت ظلم و ستم کے باوجودکشمیر عوام کے حوصلے پست نہیں کر سکا اور پاکستان کے نعرے لگا رہے ہیں، کشمیر کا مقدمہ مقبوضہ کشمیر کے عوام سے پوچھ کر جب تک حل نہیں ہوتا تب تک یہ مقدمہ ہم لڑتے رہیں گے، وزیر اعظم محمد شہباز شریف بھی کشمیر کا مقدمہ پوری دینا میں لڑ رہے ہیں۔
امیر مقام نے کہا کہ کشمیر کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں امن نہیں ہو سکتا، بھارت کبھی دریائوں کا پانی کم کرتا ہے کبھی زیادہ کرتا ہے بھارت کو اس کا بھی جواب ملے گا، ایکشن کمیٹی کے جو مطالبات ہیں ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ کشمیریوں کو زیادہ سے زیادہ ملے، کشمیری پاکستان کی سرحدوں کی محافظ ہیں، وزیر اعظم شہباز شریف دانش سکولز کو پورے کشمیر میں بنانا چاہتے ہیں ، اربوں روپے کی لاگت سے 2 سکولوں کا افتتاح کر دیا گیا ہے، نیلم میں بھی اس کا آغاز کریں گے، آزاد کشمیر کے شہر کوٹلی میں بھی جا کر ہم نے لیپ ٹاپ تقسیم کئے ہیں، وزیر اعظم چاہتے ہیں کشمیر کے پڑھے لکھے بچوں کو بھی برابر کی سہولتیں فراہم ہونی چاہئیں۔
صدر پاکستان مسلم لیگ ن و اپوزیشن لیڈر آزاد جموں و کشمیر شاہ غلام قادر نے چوہدری رزاق سابق امیدوار اسمبلی کو پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اگر دو چار دنوں میں چیف الیکشن کمشنر کے تقرری کے حوالے سے مشترکہ طور پر بیٹھ کر معاملہ حل نہ کیا دو میٹنگ ہیں میں کر چکا ہوں ابھی تک نہیں ہو سکا اگر نہیں کیا تو میں بطور قائد حزب اختلاف اپنا جو میری جو رائے جماعت کی ہے وہ لکھ کر میں چیئرمین کشمیر کونسل کو بھیج دوں گا بعد میں تم نے ہمارے ساتھ گلہ نہیں کرنا کہ جی ہمیں کوئی موقع نہیں دیا آپ کو پورا موقع دیا تھا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر جماعت و اپوزیشن لیڈر شاہ غلام قادر نے کہا کہ آج آزاد کشمیر میں جو صورتحال ہے جو سیاسی صورتحال ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ جی آپ نے ووٹ دیا اور اس کے بعد اپوزیشن میں بیٹھ گئے تو میرے بھائیو اور دوستو میں آپ کو یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ آزاد کشمیر کے آئین میں ایک ہی صفحے پہ لکھا ہوتا ہے کہ یہ وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد ہے اور ساتھ ہی لکھا ہوتا ہے کہ اس کے بعد دوسرا آدمی کون آئے گا کانام درج ہوتا ہے، ہم نے چوہدری انوار الحق کی حکومت کو ہٹانا تھا جس کا فیصلہ جماعتی سطح پہ ہو چکا تھا تو ہم نے اس کے لیے ووٹ دیا اس کا فائدہ فیصل ممتاز راٹھور کو پہنچ گیا اگر انوار الحق صاحب مستفی ہو جاتے ہیں تو پھر نئے الیکشن ہونا تھا تو نئے الیکشن میں ہمارا ووٹ پھر پیپلز پارٹی کی امیدوار کے لیے نہیں ہونا تھا دوسری بات آزاد کشمیر میں اج کل سیاست کو سیاست دانوں سے ہٹا کر کسی اور طرف کسی اور کے حوالے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، آزاد جموں و کشمیر کے سارے باشعور لوگ ہیں آپ ایل او سی پہ رہتے ہیں آپ کو پتہ ہے کتنی مشکلات کے ساتھ ہندوستان کے فوجیوں کا مقابلہ پاکستان کے مسلح افواج اور آپ لوگ جو ایل او سی پہ رہتے ہیں،مقابلہ کرتے ہیں آج آزاد کشمیر کے اس ائینی ڈھانچے کو ایک مشکل صورتحال سے درپیش ہے
یہ ریاست جو آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر ہے اس ریاستی ڈھانچے کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور کچھ لوگ سمجھ کے اور کچھ نہ سمجھی سے اس میں شامل ہو رہے ہیں ،الیکشن میں حصہ لو جیتو دو تہائی اکثریت لو اور اس کے بعد آئین میں ترمیم کرو پھر تمہارا اختیار ہے جو کرنا ہے کرو اگر عوام تمہارے ساتھ ہے لیکن اس طرف جاتے نہیں دوسرا طریقہ میں نے کہا طریقہ یہ ہے کہ آپ آزاد کشمیر کے سیاستدانوں کو قائل کرو کہ اگر آزاد کشمیر کا یہ ڈھانچہ آپ کو قبول نہیں ہے تو متبادل آپ کے پاس کیا متبادل بھی تو بتاؤ کہ متبادل کیا ہوگا کل مظفراباد میں میں پریس کانفرنس کر رہا تھا تو ایک صحافی جب میں یہ بات کی تو ایک صحافی نے کہا گلگت بلتستان بھی تو ہے نا تو میں نے کہا گلگت بلتستان ہمارے ساتھ آزاد ہوا آج وہاں ان کے پاس صدر نہیں ہے وہاں سپریم کورٹ نہیں ہے وہاں ہائی کورٹ نہیں ہے وہاں اور بہت سارے ادارے نہیں ہیں کیا یہ ساری چیزیں ہم ختم کر دیں ہمارے ہوتے ہوئے اور مسلم لیگ ن کے ہوتے ہوئے ہم آزاد کشمیر کے آئینی ڈھانچے کے خلاف ہونے والی کسی بھی سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست پہ حملے کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے ہم پاکستان کے ساتھ اپنے رشتے کو کسی صورت کمزور نہیں ہونے دیں گے یہ ہو نہیں سکتا کہ پاکستان کے ساتھ ہم اپنے رشتے کو کمزور ہونے دیں گے ، چیف الیکشن کمیشنر کی تقرری کے معاملے میں جس دن میں اس میں نے قائد حزب اختلاف کا چارج ملا، تیسرے دن میں نے لیٹر لکھا وزیراعظم آزاد کشمیر کو میں آج بھی سمجھتا ہوں ، حکومت شاید فرار اختیار کرنا چاہتی ہے۔ حکومت آزاد کشمیر سے کہنا چاہتا ہوں ہم آپ کو فرار نہیں ہونے دیں گے آزاد کشمیر کے آئین میں کوئی گنجائش نہیں ہے کہ اپ ایک دن فالتوں پہ اقتدار میں رہ سکتے ہیں آپ کو چاہیے آپ سیاسی جماعت ہیں آپ نے کیا کام پکڑا ہوا ہے کہ آزاد کشمیر میں کہ جب جی چاہے کسی کا تبادلہ کر دیتے ہو ، تبادلوں سے نکل کر عوام کے مسائل حل کریں ، مسائل حل کرنا آپ کی ڈکسشنری میں نہیں لکھا ہوا ، معذور خاتون کا 100 کلومیٹر دور تبادلہ کر کے کون سا کشمیر فتح کیا ہے ۔حکومت زمین پہ کوئی کام کرو نا یہ کیا ملازمین کے تبادلوں پہ تم نے وقت ضائع کریں، تبادلوں سے مسلم لیگی گھبرانے والے نہیں ہیں۔
انہوں نے کہاکہ چوہدری عبد الرزاق اور ان کی پوری ٹیم کو پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر و قائد محمد نواز شریف ، وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف ، وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کی جانب سے خوش آمدید کہتا ہوں اور ایک بات کا یقین دہانی کرتا ہوں آپ کی عزت اور آپ کے احترام میں پاکستان مسلم لیگ ن سے کبھی کبھی مایوسی نہیں ہو گی، چوہدری رزاق کو ہم نے بلدیاتی انتخابات کے موقع پہ بھی دعوت دی تھی ۔ حلقہ سماہنی ہمارے لیے کوئی نیا حلقہ نہیں ہے لیکن ہمیشہ سے ایک پرابلم رہا کہ حلقہ سماہنی میں بہت عرصے سے ہم نے الیکشن نہیں جیتا اور مجھے امید ہے کہ اس دفعہ انشاءاللہ تعالی پاکستان مسلم لیگ کا نمائندہ حلقہ سماہنی سے الیکشن جیتے گا ۔
سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن متحد و منظم ہے ، مسلم لیگ ن میں ہم ایک ہیں ، بیانات ہمارے علیحدہ ہو سکتے ہیں لیکن جماعت کی کامیابی کے لیے ہم ایک پیج پر ہیں ، عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملکر آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کو کمزور کیا ۔آزاد کشمیر کے اندر مسلم لیگ ن کی ایک منظم نظریاتی جماعت کی حکومت کا قائم کی جائے گی ، آزاد کشمیر کے اندر مسلم لیگ ن روز بروز مضبوط ہوتی جا رہی ہے، اور 2016 کے انتخابات کی طرح اس بار بھی مسلم لیگ ن دو تہائی اکثریت حاصل کرئے گی ، سماہنی کے عوام لائن اف کنٹرول کے اوپر ہیں یہاں لوگوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں ہندوستان کی افواج کی گولہ باری ان کی فائرنگ بھی ان لوگوں نے برداشت کی ہے لائن اف کنٹرول ہے اور بڑی جواں مردی کے ساتھ اللہ کے فضل و کرم سے ان لوگوں نے بھارتی افواج کی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے، انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب 2016 کا الیکشن میں جب ہم جا رہے تھے ہمارا پیغام بھی یہی تھا کہ لوگوں کے لیے کہ جو تعمیر و ترقی کا خوشحالی کا جو نظام نواز شریف کی قیادت میں پاکستان کے اندر جو قائم کیا جا رہا ہے وہی تعمیر و ترقی آزاد جموں و کشمیر میں لانا چاہتے ہیں۔
اگرمیاں نواز شریف کی حکومت کو غیر آئینی طریقے کے ساتھ ختم نہ کیا جاتا تو پاکستان کے چاروں صوبوں کے اندر جو ترقی ہوتی اس کی مثال نہ ملتی ، پی ٹی آئی نے جب اقتدار سنبھالا اس نے عوام کو کوئی سہولت نہیں دی بلکہ معاشرے کو بدتمیز کیا ۔انہوں نے کہا کہ بہرحال آج پھر اللہ کا فضل و کرم ہے کہ پاکستان کے اندر پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت قائم ہے میاں شہباز شریف پاکستان کے وزیراعظم ہیں اور مریم نواز شریف پنجاب کی چیف منسٹر ہیں، انہوں نے کہا کہ کامیابی تب ممکن ہوگی جس کے لیے ہم یہاں پر اکٹھے ہیں جب جماعتی ڈسپلن کی پابندی کی جائے قوم نظم و ضبط سے قائم رہتی ہیں نظم و ضبط خراب ہو قوم تباہ ہو جاتی ہیں سیاسی جماعتیں میں جماعتیں پھلتی پھولتی ہیں۔ آپ فکر نہ کریں یہ جو آج کل حکومت ہے یہ پانی کا بلبلہ ہے یہ چھوڑیں ان کے پاس اتنے وزیر ہیں اتنے ایم ایل اے ہیں وہ اگر ہمارا حلال ووٹ شامل نہ ہوتا، شاید یہ حکومت بن ہی نہیں سکتی۔
انہوں نے کہا آئندہ الیکشن میں آزاد جموں و کشمیر میں پاکستان مسلم لیگ کی حکومت بنی گی میں اپ کو یقین دلاتا ہوں اس بات سے ہمارا مقابلہ جو موجودہ حکومت ہے اس کے ساتھ لیکن یہ بھی میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں آزاد جموں و کشمیر میں اچھی حکومت کا کیا لانا ہے پاکستان کو اس خطے کے اندر اس کو دوبارہ مضبوط کر رہے ہیں تحریک ازادی کشمیر اپنا رول ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مخالفین ہمارے بارے میں یہ باتیں کرتے ہیں ان میں اتفاق نہیں ان کو میرا پیغام ہے ہمارا کوئی اختلاف نہیں ہے مسلم لیگ کے اندر کوئی اختلاف نہیں ، واضح طور پر یہ بات کہنا چاہتا ہوں ہم سب اکٹھے ہاں یہ ہو سکتا ہے یہ میرا الگ بیان ہو سکتا ہے
دوسرے کا علیحدہ بیان ہو سکتا ہے لیکن یہ نہیں ہے کہ جماعت کے اندر تو اس قسم کا اختلاف ہے۔اس موقع پر مسلم لیگ (ن )میں شمولیت اختیارکرنے والے چوہدری عبدالرزاق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرے والدین اور میرے بھائی رشید مرحوم بھی سابقہ وزیر رہے، میں باضابطہ طور پر آج مسلم لیگ (ن )میں شامل ہونے کا اعلان کرتا ہوں، میں نے بیرسٹر سلطان محمود کے ساتھ 39 سال سیاست کی ، آج وہ بیمار ہیں اللہ پاک ان کو صحت عطا فرمائے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جس طریقے سے پورے پنجاب میں کام کیا یہی سیاسی قیادت کا وژن ہوتا ہے، میاں نواز شریف کی قیادت میں ان کی فہم و فراست سے ملک بحرانوں سے نکلے گا، آج ہم نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کر لی ہے، ہم ایک ڈسپلن میں آگئے ہیں ،قیادت کا فیصلہ ہمیشہ مقدم رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ شامل ہونے والے تمام کارکنان جماعت کیلئے ایک ہو کر کام کریں گے، ٹکٹ کیلئے راجہ مقصود اور میں بھی ہوں لیکن اس حوالے سے قیادت کا جو فیصلہ ہو گا تسلیم کریں گے، سماہنی کے اندر برادری ازم کے بت کو توڑ دیں گے، سماہنی میں مسلم لیگ (ن )کو سیٹ جیت کر تحفے میں دیں گے، بلدیاتی الیکشن میں کچھ غلطی ہو گئی تھی پھر بھی حلقہ سے اکثریت سیٹیں ہم نے ہی جیتی ہیں۔تقریب سے سیکرٹری جنرل چودھری طارق فاروق ، سابق وزارء حکومت ڈاکٹر نجیب نقی ، چوہدری محمد سعید ، چوہدری رخسار احمد ، راجہ مقصود ، ودیگر عہدیداران نے بھی خطاب کیا ۔