افشاں کیانی،سماجی رہنما
کسی بھی زندہ اور بیدار معاشرے کی بنیاد اس کے افراد کی ذہنی آزادی اور اظہارِ رائے کی اس فضا پر قائم ہوتی ہے جہاں خوف کا وجود نہ ہو۔ انسانی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ صرف وہی تہذیبیں مادی اور فکری ارتقاء کی منازل طے کر پاتی ہیں جنہوں نے اختلافِ رائے کو دشمنی کے بجائے بہتری کا زینہ سمجھا۔ اگر ہم ایک ایسے ماحول میں سانس لے رہے ہیں جہاں سوال اٹھانے پر پابندی ہو، تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ فضا ہماری ذہنی نشوونما کے لیے نہیں بلکہ ہمیں ڈرا دھمکا کر کنٹرول میں رکھنے کے لیے ترتیب دی گئی ہے۔ ایسا حبس زدہ ماحول کبھی تعمیری نہیں ہو سکتا، بلکہ یہ صرف اور صرف ذہنی پسماندگی اور فکری بانجھ پن کو جنم دیتا ہے۔ جب معاشرے سے سوال کرنے کی ہمت چھین لی جائے اور متبادل نکتہ نظر پیش کرنے والے کو معتوب قرار دیا جائے، تو وہاں سے تخلیقی صلاحیتیں رخصت ہو جاتی ہیں اور معاشرہ محض لکیر کے فقیروں کا ایک بے جان ہجوم بن کر رہ جاتا ہے۔
مارچ کا مہینہ ہماری قومی تاریخ میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ قراردادِ پاکستان کی بدولت تجدیدِ عہد کا استعارہ ہے۔ یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اس ملک کی بنیاد ہی ایک الگ فکری تشخص اور آزادی کے خواب پر رکھی گئی تھی۔ اسی ماہ میں خواتین کا عالمی دن بھی منایا جاتا ہے جو اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ معاشرے کے آدھے حصے کو محض خاموش تماشائی بنانے کے بجائے انہیں فیصلہ سازی اور اظہارِ رائے کے برابر مواقع دیے جائیں۔ لیکن بدقسمتی سے، موجودہ حالات میں ہم نے دیکھا کہ جب اسلام آباد میں خواتین نے اپنے حقوق کے لیے ‘عورت مارچ’ کی کال دی، تو ریاست نے مکالمے کے بجائے جبر کا راستہ اختیار کیا۔ وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 کا نفاذ کر کے تقریباً پانچ سو خواتین کی گرفتاریاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ہم اب بھی پرامن احتجاج اور اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔
ایک ایسے وقت میں جب ہم اپنی سالگرہ یا کسی بھی قومی دن کی خوشیاں مناتے ہیں، ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ایک لکھاری کا قلم یا ایک شہری کی آواز اسی وقت سچائی کی خوشبو بکھیر سکتی ہے جب اسے سنسر شپ اور گرفتاری کے خوف سے نجات حاصل ہو۔ جب ریاست اپنی بیٹیوں کو سڑکوں پر محض اپنی بات کہنے یا احتجاج کرنے پر پابندِ سلاسل کرتی ہے، تو وہ دراصل اس سماجی ڈھانچے کو مزید کمزور کر رہی ہوتی ہے جسے پہلے ہی فکری گھٹن کا سامنا ہے۔ ذہنی پسماندگی کا علاج کبھی بھی پولیس کے ڈنڈے، دھونس یا گرفتاریوں میں نہیں چھپا، بلکہ اس کا حل صرف اور صرف مکالمے اور وسیع القلبی میں ہے۔
اگر ہم اپنے تعلیمی اداروں، گھروں اور ریاستی ڈھانچوں میں اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا نہیں کریں گے، تو ہم کبھی بھی اس عالمی دوڑ میں شامل نہیں ہو سکیں گے جہاں علم اور جدت کی بنیاد ہی پچھلے نظریات پر سوال اٹھانے سے شروع ہوتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے اردگرد ایک ایسا ماحول پروان چڑھائیں جہاں ہر فرد، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، یہ محسوس کر سکے کہ اس کی رائے قابلِ احترام ہے۔ اسی آزادیِ فکر سے ہی وہ راستہ نکلے گا جو ہمیں ایک خوشحال، باوقار اور روشن خیال مستقبل کی طرف لے جائے گا۔ ورنہ جبر کی یہ زنجیریں ہمیں ایک ایسی فکری تاریکی میں دھکیل دیں گی جہاں سے واپسی کا راستہ شاید کبھی نہ مل سکے۔
Trending
- کیا آپ بھی بھولنے کی عادت کا شکار ہیں؟ یہ غذائیں یادداشت کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں
- مشرق وسطیٰ میں نیا محاذ کھل گیا، تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد سعودی عرب کی عراق پر جوابی کارروائی
- شان مسعود کی انگلی فریکچر، بابر اعظم نے انجری کی تصدیق کردی
- چین کا جاپان سے چین میں ترک کردہ کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کا عمل تیز کرنے کا مطالبہ
- فلپائن کے غیر قانونی عزائم کامیاب نہیں ہو سکتے ، چینی وزارتِ دفاع
- چین اور یورپی یونین کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری مشاورتی میکانزم کا دوسرا اجلاس رواں سال خزاں میں ہوگا
- زائد پیداواری صلاحیت” کا بیانیہ بے بنیاد، چین دنیا کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے، چینی میڈیا
- ٹائیگر شروف فلموں کے بعد فٹبال کی دنیا میں انٹری کیلئے تیار
- سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کا اجلاس، اکتوبر میں بیسویں مرکزی کمیٹی کا پانچواں کل رکنی اجلاس بلانے کا فیصلہ
- چینی صدر کا معیشت کی اعلیٰ معیار کی ترقی پر زور
اپناوطن ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے پاکستان بھر میں اور اوورسیز پاکستانیوں کے نیوزپلیٹ فارم کے بانی مدیر اعلیٰ نعیم کا شمار کہنہ مشق اور منجھے ہوئے مایہ ناز صحافیوں میں ہوتا ہے۔