بیجنگ :بوآؤ فورم فار ایشیا کی سالانہ کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔ اس سال کا بوآؤ فورم فار ایشیا غیر معمولی اہمیت کا حامل اس لئے ہے کہ یہ فورم چین کے “15 ویں پانچ سالہ منصوبے” کے آغاز اور ہائی نان فری ٹریڈ پورٹ کی جانب سے جزیرے بھر میں خصوصی کسٹمز آپریشنز کے 100ویں دن کے موقع پر منعقد کیا گیا ہے ۔رواں سال اس فورم کے قیام کی 25 ویں سالگرہ بھی منائی جا رہی ہے، اور حالیہ فورم نے عالمی برادری کی خصوصی توجہ حاصل کی ہے۔ دنیا بھر کے 60 سے زائد ممالک اور خطوں کے تقریباً دو ہزار نمائندوں نے اس فورم میں شرکت کی۔ اس وقت عالمی صورتحال غیر یقینی عوامل سے بھرپور ہے، جغرافیائی سیاسی تنازعات شدت اختیار کر رہے ہیں، تجارتی تحفظ پسندی عروج پر ہے، اور عالمی اقتصادی ترقی سست روی کا شکار ہے۔ اس پس منظر میں، موجودہ فورم میں چین کی جانب سے پیش کردہ “بندش اور اخراج کی پالیسیوں کو ترک کر کے تعاون اور جیت جیت کا روشن مستقبل تخلیق کرنے” اور “طاقت کی سیاست کو ترک کر کے عدل و انصاف کا روشن مستقبل تخلیق کرنے” کی تجاویز کو فورم کے شرکاء کی جانب سے خوب پذیرائی ملی۔ تو اگلے پانچ سالوں میں مزید کھلا چین کون کون سے نئے مواقع اور تعاون لائےگا؟ حقیقت یہ ہے کہ مارکیٹ سب سے قیمتی وسیلہ ہے۔ 1.4 ارب سے زائد آبادی اور دنیا کے سب سے بڑے اور تیزی سے ترقی کرنے والے متوسط طبقے کے ساتھ، چین اگلے پانچ سے دس سالوں میں ایک ورلڈ فیکٹری سے “ڈیمانڈ سینٹر” میں تبدیل ہو جائے گا۔ عالمی معیشت کی تبدیلی کے لیے نئے محرکات کی ترقی درکار ہے۔ 2025 میں، چین کی اختراعی انڈیکس کی درجہ بندی پہلی بار دنیا میں ٹاپ ٹین میں داخل ہوئی۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ تحفظ پسندی کے بڑھتے ہوئے دور میں چین کا کھلا پن دنیا کے لیے ایک واضح یقین بن گیا ہے۔ اس سال کے بوآؤ فورم فار ایشیا میں زیادہ عملی تعاون کا مشاہدہ کیا گیا۔ یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ چین رواں سال نومبر میں چین کے شہر شینزن میں اپیک رہنماؤں کے 33 ویں اجلاس کی میزبانی کرے گا، جس میں “ایشیا پیسفک کمیونٹی” کی تعمیر کو مزید فروغ دیا جائے گا۔
Trending
- پہلے نصف سال میں چین میں سماجی لاجسٹکس کا مجموعی حجم 181 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گیا
- چین کا ترکیہ سے ڈبلیو ٹی او کے پینل فیصلے کا احترام کرتے ہوئے عملی اقدامات کا مطالبہ
- چین میں رواں سال 4 لاکھ 53 ہزار ایجادی پیٹنٹس کی منظوری
- سی پیک کے تحت پاکستانی آم کی چینی منڈی میں فروخت میں مسلسل اضافہ
- زائد پیداواری صلاحیت”: صرف چین کو ناپنے کا ایک سیاسی پیمانہ
- چین اور پیرو کے تعلقات لاطینی امریکی ممالک میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، چینی عہدیدار
- چین اور ساؤ ٹومے و پرنسیپے کے تعلقات نے مثبت رفتار سے ترقی کی ہے، چینی صدر
- چین دنیا بھر کے امن پسند عوام کے ساتھ مل کر تاریخی انصاف کا دفاع جاری رکھے گا ، چینی وزارتِ خارجہ
- گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو نے عالمی ترقی کے فروغ کے لیے چینی دانش کو اجاگر کیا، چینی وزیر خارجہ
- چین کا نیو نیو ٹریو روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور اختراعی ادویات ، دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے، رپورٹ