News Views Events

پاکستان وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت 10 ارب ڈالر تک بڑھا سکتا ہے: میاں کاشف اشفاق

0

اسلام آباد:پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ پاکستان آئندہ چند برسوں میں وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو موجودہ سطح سے تقریبا تین گنا بڑھا کر 10 ارب ڈالر تک لے جا سکتا ہے۔ اتوار کو یہاں پی ایف سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت وسطی ایشیائی خطے کے ساتھ براہ راست تجارت اپنی حقیقی صلاحیت کے مقابلے میں بہت کم ہے اور زیادہ تر تجارت ٹیکسٹائل، غذائی مصنوعات اور محدود صنعتی اشیاء تک محدود ہے، جو کہ اقتصادی تعاون بڑھانے کی وسیع کوششوں کے برعکس ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ازبکستان اور قازقستان، جو اس خطے میں پاکستان کے 2 بڑے تجارتی شراکت دار ہیں، کے ساتھ ٹرانزٹ معاہدوں کے باوجود تجارت میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا، حالانکہ پاکستانی مصنوعات کی وہاں مسلسل طلب موجود ہے۔ میاں کاشف اشفاق کا کہنا تھا کہ مشرق وسطی میں جاری تنازعات کے باعث پیدا ہونے والی معاشی غیر یقینی صورتحال، عالمی توانائی قیمتوں میں اتار چڑھا، شپنگ روٹس میں رکاوٹوں اور مالیاتی منڈیوں کی غیر استحکام نے پاکستان کے لیے یہ ناگزیر بنا دیا ہے کہ وہ اپنی برآمدی منڈیوں کو متنوع بنائے۔

انہوں نے کہا کہ چند روایتی منڈیوں پر حد سے زیادہ انحصار نے پاکستان کی برآمدی ترقی کو محدود رکھا ہے اور اسے بیرونی جھٹکوں کے لیے حساس بنا دیا ہے۔ ان حالات میں جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کی منڈیوں میں برآمدات بڑھانے کے لیے ایک جامع اور ہدفی حکمت عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے پاس انجینئرنگ اور صنعتی مصنوعات کی وسیع برآمدی صلاحیت موجود ہے، جن میں شوگر ملز، سیمنٹ پلانٹس کا سازوسامان، کھاد، تعمیرات اور بجلی پیدا کرنے والی صنعتوں کے لیے مشینری شامل ہے، انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان اس خطے کی تجارتی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو اسے ٹرانسپورٹ رابطوں کو مضبوط بنانا، بینکاری نظام کو بہتر کرنا اور تجارتی سہولت کاری کے معاہدوں کو فروغ دینا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وسطی ایشیائی ممالک قدرتی وسائل جیسے تیل، گیس، کوئلہ اور معدنیات سے مالا مال ہیں، جبکہ تقریبا347 ارب ڈالر کی مجموعی جی ڈی پی اور مستحکم اقتصادی ترقی کے ساتھ یہ خطہ توانائی، زراعت، ٹیکسٹائل اور معدنیات کے شعبوں میں نمایاں اہمیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے وسطی ایشیائی معیشتیں اپنے روایتی تجارتی شراکت داروں سے ہٹ کر نئے مواقع تلاش کر رہی ہیں، پاکستان کے لیے اس خطے میں مضبوط اقتصادی شراکت داری قائم کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.