News Views Events

شوکت علی؛صدائے پنجاب کوخاموش ہوئے پانچ برس گئے 

0

(ایم وقار)نامور گلوکار شوکت علی کو مداحوں سے بچھڑے پانچ سال ہو گئے۔
شوکت علی کا شمار ملک کے اُن مایہ ناز فنکاروں میں ہوتاتھا جنہوں نے اپنی الگ شناخت قائم کی ،ان کے بغیر لوک گائیکی کی تاریخ مکمّل ہوتی ہے نہ ہی اس کاتذکرہ، ان کے گائے ہوئے گیتوں کے ذریعے پنجاب کی ثقافت مضبوط اور نئی نسل اپنے ماضی کے ساتھ وابستہ ہوئی،’’جگا‘‘ اور’’ دلا بھٹّی‘‘ جیسے لافانی لوک کردار ماضی کے دھندلکوں سے نکل کر سامعین کی آنکھوں کے سامنے چلتے پھرتے دکھائی دیئے ۔
شوکت علی کا تعلّق موسیقی کے ایک معروف گھرانے سے تھا، تقسیم ہند سے قبل ان کے والد کی اندرون بھاٹی گیٹ میں ٹیلرنگ کی دکان تھی، پہلوانی بھی کرتے تھے چونکہ ان کا تعلّق موسیقار گھرانے سے تھااس لئے بہت سُریلے گلوکار بھی تھے، ننھیال سے ان کے بزرگ ملکوال سے تعلّق رکھتے تھے،شوکت علی کی پیدائش اندرون بھاٹی گیٹ ہوئی،وہ چار بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے، بڑے بھائی عاشق حسین ملنگ کے بعدعنایت علی اور تیسرے صادق علی میو ہسپتال میں ملازم تھے، والد کاانتقال تقسیم سے قبل ہی ہو گیاتھاجس کی وجہ سے ان کی والدہ بچوں کو لے کر ملکوال چلی گئیں، اس وقت شوکت علی تیسری جماعت کے طالب علم تھے۔


 شوکت علی نے ’’صیدِہوس‘‘ نام کے ایک ڈرامے سے بطور چائلڈ سٹار کیریئر کا آغاز کیا جو آغا حشر کاشمیری مرحوم کا ڈرامہ تھا ، آغا حشر کے دیگر ڈراموں کی طرح اس میں بھی گانے شامل تھے جو لوگوں کو بہت پسند آئے، ملکوال سے پھروہ اندرون بھاٹی گیٹ آگئے جہاں محرم الحرام کی مجالس پڑھنا شروع کردیں، موسیقی کی تربیت اپنے بڑے بھائی عنایت علی سے حاصل کی جو عنایت علی چھلے والے کے نام سے مشہور تھے۔
شوکت علی نے فوک اورصوفیانہ کلام کے ساتھ ساتھ 65ء کی پاک بھارت جنگ میں فوجی جوانوں کے لہوکوگرمانے کیلئے ترانے بھی گائے جن میں’’ساتھیو مجاہدوجاگ اُٹھاہے ساراوطن‘‘ اور’’میں پترپاکستان دا‘‘نمایاں ہیں،ان کی آواز میں میاں محمدبخش کاکلام سیف الملوک فلم’’چن وریام‘‘میں بھی شامل کیاگیاتھاجس کی موسیقی وجاہت عطرے کی تھی،مسعودراناکے ساتھ انہوں نے حمایت علی شاعرکاکلام’’ساتھیو مجاہدوجاگ اُٹھاہے سارا وطن‘‘ فلم ’’مجاہد‘‘ کے لئے گایاتھاجس کی موسیقی خلیل احمدکی تھی۔’’میں پترپاکستان دا‘‘انہوں نے عنایت حسین بھٹی اورناہیداخترکے ساتھ مل کر گایاتھا اوریہ فلم’’اتھراپتر‘‘میں شامل تھا۔ان کی آوازمیں ایک نعت ’’نبی دے اسی غلام‘‘ فلم’’بہرام ڈاکو‘‘میں شامل ہوئی تھی۔


وہ صوفیانہ کلام، غزل اور پنجابی گیت گانے میں ایک منفرد مقام رکھتے تھے،انہیں برصغیر میں فوک گائیکی کا رانجھا بھی کہاجاتاتھا،فوک گائیکی میں شوکت علی کااندازہمیشہ ناقابل فراموش رہے گا،انہوں نے دو فلموں ’’کفارہ‘‘ اور’’اکبرا‘‘ میں اداکاری کے جوہر بھی دکھائے تھے۔پنجابی میں ان کے دو شعری مجموعے بھی شائع ہوئے تھے۔
شوکت علی کوطویل کیریئر کے دوران بے شمار اعزازات سے نوازا گیا تھا، 1990ء میں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی ملا، 1981ء میں پہلا پی ٹی وی ایوارڈ ملا، اس کے علاوہ انٹرنیشنل پنجابی ایوارڈ وینکوور ‘ وائس آف پنجاب ایوارڈ کیلیفورنیا‘ کنگ آف پنجابی فوک لور ٹورنٹو‘ اوری اینٹل لینگویجز ایوارڈ موریشس‘پنجابی کلچرل فیسٹیول ایوارڈ موہالی ‘پروفیسر موہن سنگھ ایوارڈ کینیڈا‘نگار ایوارڈ‘گریجوایٹ ایوارڈ‘گیت سنگیت ایوارڈ کیلیفورنیا‘قلعہ رتن ایوارڈ شارجہ‘طفیل نیازی ایوارڈ‘پرویزمہدی ایوارڈ‘اوری اینٹل سٹار گولڈن ڈسک برمنگھم سمیت بے شمار ایوارڈ بھی انہیں مل چکے تھے۔ امریکہ‘ کینیڈا‘ چین‘ کوریا‘ مصر‘ اردن‘ قطر‘ روس‘ یو اے ای‘ انگلینڈ‘ ناروے‘سویڈن‘ ڈنمارک‘ جرمنی‘ فرانس‘ بھارت اور موریشس میں انہیں سرکاری طورپر بھیجاگیاتھا۔

یہ بھی پڑھیں:دل ہوگیا ہے تیرادیوانہ؛لازوال گیتوں کے خالق مسرورانورکوبچھڑے30 برس بیت گئے

شوکت علی نےغالب‘ داغ اور مومن کا کلام بھی گایا لیکن میاں محمد بخش کا کلام ان کی خاص پہچان بنا۔ ’’کیوں دور دور رہندے او حضور میرے کولوں‘ دس دیو ہویا کی قصور میرے کولوں‘‘نے انہیں باقاعدہ لوک گلوکار کی شناخت دی ، سیف الملوک سے انہیں بلاشبہ بہت شہرت ملی ۔نظام دین نے ایک بار کہا تھا کہ سیف الملوک کو ’’شوکت ملوک‘‘ کہا کرو۔ 


پی این پی
Leave A Reply

Your email address will not be published.