مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے امریکہ نے ایران کے خلاف حملے روک دیے، ایران نے امریکی صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دے دیا
اقوام متحدہ میں امریکہ کے مستقل نمائندے مائیکل والٹز نے کہا ہے کہ سفارتی مذاکرات کے لیے مزید گنجائش پیدا کرنے کی غرض سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی حملے معطل کر دیے ہیں۔
گزشتہ روز ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم اور تنظیم کے مسلح ارکان کی جانب سے بھیجے گئے حالیہ خط کے جواب میں کہا کہ لبنان کی علاقائی سالمیت کا تحفظ اور لبنان کے خلاف اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کا مکمل اور غیر مشروط خاتمہ، امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔ ایران کے خوزستان صوبائی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر نے کہا کہ حالیہ ایران-امریکہ تنازع کے دوران مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کے 288 سے زائد اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، 26 تاریخ کو ایرانی بری فوج کے ترجمان اکرامینیا نے کہا کہ ایران کو اس وقت امریکہ کی جانب سے کسی واضح حکمت عملی کا علم نہیں، تاہم یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ پہلے ہی ایک انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔