بھارت میں مہنگی ترین فلم ریلیز سے قبل ہی لیک، 6 ملزمان گرفتار
بھارتی ریاست تامل ناڈو میں سائبر کرائم ونگ نے مشہور جنوبی بھارتی اسٹار وجے کی فلم ’جانا نائگن‘ کے غیر قانونی آن لائن لیک کے معاملے میں کارروائی کرتے ہوئے 6 افراد کو گرفتار کر لیا، جب کہ 300 سے زائد پائریسی لنکس بھی بلاک کر دیے گئے ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق حکام نے فلم کے ایچ ڈی پرنٹ کو غیر قانونی طور پر شیئر کرنے کے الزام میں ملزمان کو حراست میں لے کر کارروائی شروع کردی ہے۔
یہ کارروائی فلم کے پروڈیوسر وی این پروڈکشنز کی شکایت پر کی گئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ فلم کو مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بغیر اجازت اپ لوڈ کیا جا رہا ہے جس سے فلم کو بڑے مالی نقصان کا خدشہ ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ 9 اپریل کو فلم کے کلپس اور بعض صورتوں میں مکمل فلم انٹرنیٹ پر لیک ہوئی، جس کے بعد فوری تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
اس سلسلے میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں جنہوں نے ڈیجیٹل فرانزک تجزیے اور غیر قانونی لنکس کی نشاندہی کے ذریعے ملزمان تک رسائی حاصل کی۔
تحقیقات میں سامنے آیا کہ ملزمان نے کلاؤڈ اسٹوریج اور شیئرڈ ڈرائیو لنکس کے ذریعے فلم کو وسیع پیمانے پر پھیلایا۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے اہم ڈیجیٹل شواہد بھی برآمد کر لیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مقدمہ بھارتیہ نیائے سنہتا، انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ، کاپی رائٹ ایکٹ اور سنیماٹوگرافی ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے۔
سائبر کرائم ونگ کا کہنا ہے کہ مزید غیر قانونی لنکس ہٹانے کے لیے کارروائی جاری ہے اور سوشل میڈیا سمیت مختلف پلیٹ فارمز کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
ادارے نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ کاپی رائٹ مواد کی غیر قانونی ڈاؤن لوڈنگ یا شیئرنگ سے گریز کریں، بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
دوسری جانب فلم کے پروڈیوسرز نے بھی عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر قانونی لنکس فوری طور پر حذف کریں۔ تاہم مرکزی اداکار وجے کی جانب سے تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا، کیونکہ وہ ان دنوں اپنی سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
واضح رہے کہ ’جانا نائگن‘ ایک کمرشل فلم ہے جس میں سیاسی پہلو بھی شامل ہیں، جبکہ سنسر بورڈ کی جانب سے بعض مناظر پر اعتراضات کے باعث اس کی ریلیز تاحال تاخیر کا شکار ہے۔
پی این پی