بیجنگ: حالیہ عرصے میں جاپان کی جانب سے ہتھیاروں کی برآمدات میں نرمی اور عسکری پالیسیوں میں تبدیلی جیسے اقدامات پر عالمی سطح پر تشویش بڑھ گئی ہے۔ بین الاقوامی شخصیات کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات نہ صرف جنگِ عظیم دوم کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام کو چیلنج کرتے ہیں بلکہ جاپان کے امن پسند آئینی اصولوں سے انحراف بھی ظاہر کرتے ہیں، جس پر عالمی برادری کو چوکنا رہنا چاہیے۔امریکی مشرقی ایشیا کی تاریخ کے سینئر مبصر ٹم شوراک نے کہا کہ جاپان کی موجودہ قیادت انتہائی قدامت پسند رجحانات کی حامل ہے، جو دوسری عالمی جنگ میں جاپان کے جارحانہ کردار سے انکار کرتی ہے۔ وہ "کمفرٹ ویمن” کے خلاف جرائم، جزیرہ نما کوریا پر نوآبادیاتی مظالم اور چین میں کیے گئے سنگین جرائم سے بھی انکار کرتے ہیں۔ سانائے تاکائیچی آئین میں ترمیم کرنا چاہتی ہے جو ان کے خیال میں جنگ کے بعد جاپان کے امن پسند آئین سے مکمل انحراف ہو گا۔میکسیکو سینیٹ کی ایشیاپیسفک کمیٹی کی چیئرپرسن ییدکول پولیونسکی کے خیال میں جاپان کو چین سمیت علاقائی ممالک کے حوالے سے اپنی تاریخی ذمہ داریوں کا ادراک کرنا چاہیے ۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد، جرمنی نے یہودی لوگوں سے معافی مانگی اور جنگ کے نقصانات کا معاوضہ ادا کیا، جبکہ جاپان اب بھی اپنے ماضی کے بعض حقائق کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاپان میں جاری تبدیلیاں تشویشناک ہیں اور یہ خود جاپانی عوام کے لیے بھی باعثِ فکر ہو سکتی ہیں۔ماہرین کے مطابق جاپان کی حالیہ پالیسیوں سے نہ صرف علاقائی سلامتی متاثر ہو سکتی ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی نئے خدشات جنم لے سکتے ہیں، اس لیے بین الاقوامی برادری کو اس صورتحال پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔
Trending
- یاور حسین نے پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل کا چارج سنبھال لیا
- آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ جاری، صرف ایک پاکستانی کھلاڑی شامل
- لیونل میسی سمیت ارجنٹینا فٹبال ٹیم کے پلیئرز کے پاسپورٹ نمبر لیک ہوگئے
- ٹرمپ کا یوٹرن، ایران پر حملے موخر کرنے کا اعلان
- FIFA World Cup 2026 to have unique start, opening ceremonies to be held in three countries for the first time
- سعودی عرب نے 5سال بعد لبنانی درآمدات پر عائد پابندی ختم کردی
- اسکواش چیمپئن شپ: سندھ کے 8 کھلاڑی سیمی فائنل میں پہنچ گئے
- وفاقی حکومت کی معاشی شرح نمو، زیادہ تر معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کا انکشاف
- انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس اور بولر گَس ایٹکنسن کیخلاف بڑا فیصلہ!
- National Economic Council approves budget 2026-2027