بیجنگ: حالیہ عرصے میں جاپان کی جانب سے ہتھیاروں کی برآمدات میں نرمی اور عسکری پالیسیوں میں تبدیلی جیسے اقدامات پر عالمی سطح پر تشویش بڑھ گئی ہے۔ بین الاقوامی شخصیات کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات نہ صرف جنگِ عظیم دوم کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام کو چیلنج کرتے ہیں بلکہ جاپان کے امن پسند آئینی اصولوں سے انحراف بھی ظاہر کرتے ہیں، جس پر عالمی برادری کو چوکنا رہنا چاہیے۔امریکی مشرقی ایشیا کی تاریخ کے سینئر مبصر ٹم شوراک نے کہا کہ جاپان کی موجودہ قیادت انتہائی قدامت پسند رجحانات کی حامل ہے، جو دوسری عالمی جنگ میں جاپان کے جارحانہ کردار سے انکار کرتی ہے۔ وہ “کمفرٹ ویمن” کے خلاف جرائم، جزیرہ نما کوریا پر نوآبادیاتی مظالم اور چین میں کیے گئے سنگین جرائم سے بھی انکار کرتے ہیں۔ سانائے تاکائیچی آئین میں ترمیم کرنا چاہتی ہے جو ان کے خیال میں جنگ کے بعد جاپان کے امن پسند آئین سے مکمل انحراف ہو گا۔میکسیکو سینیٹ کی ایشیاپیسفک کمیٹی کی چیئرپرسن ییدکول پولیونسکی کے خیال میں جاپان کو چین سمیت علاقائی ممالک کے حوالے سے اپنی تاریخی ذمہ داریوں کا ادراک کرنا چاہیے ۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد، جرمنی نے یہودی لوگوں سے معافی مانگی اور جنگ کے نقصانات کا معاوضہ ادا کیا، جبکہ جاپان اب بھی اپنے ماضی کے بعض حقائق کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاپان میں جاری تبدیلیاں تشویشناک ہیں اور یہ خود جاپانی عوام کے لیے بھی باعثِ فکر ہو سکتی ہیں۔ماہرین کے مطابق جاپان کی حالیہ پالیسیوں سے نہ صرف علاقائی سلامتی متاثر ہو سکتی ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی نئے خدشات جنم لے سکتے ہیں، اس لیے بین الاقوامی برادری کو اس صورتحال پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔
Trending
- چین برکس تعاون کو مستحکم مستقبل کی جانب لے جائے گا، بین الاقوامی شخصیات
- ملک میں ایک تولہ سونے کی قیمت 400 روپے بڑھ گئی
- رضا اللہ کا تیز رفتاری سے بد ترین کارکردگی تک کا سفر
- ’تمہیں سمجھنا مشکل ہے‘، سیف علی خان نے اہلیہ کرینہ کپور کو ایسا کیوں کہا؟
- صائم ایوب کو سی پی ایل سے بلا کر کھلانا ٹیسٹ کرکٹ کی توہین ہے، ناصر حسین
- برکس تعاون میکانزم کو مسلسل فروغ مل رہا ہے، چینی صدر
- ’وہ مجھے بیوی نہیں، کچھ اور سمجھتے تھے‘، ایلون مسک کی سابقہ اہلیہ کے چونکا دینے والے انکشافات
- مٹی کا تیل 17روپے 35 پیسے فی لیٹر مہنگا
- چین کی بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی تعاون مضبوط بنانے کی اپیل
- مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے حوالے سے چین کا کردار قابل تحسین ہے ، سابق وزیر اعظم اردن